’لیبیا میں مقدمے کا مطلب قتل ہوگا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بین الاقوامی فوجداری عدالت نے سیف الاسلام پر انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ درج کر رکھا ہے

لیبیا کے سابق حکمران کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام نے کہا ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ لیبیا میں نہیں بلکہ دی ہیگ میں واقع بین الاقوامی فوجداری عدالت میں چلایا جائے۔

یہ بات سیف الاسلام کے بیان میں کہی گئی ہے جو ان کے وکلاء کی جانب سے جرائم کی عدالمی عدالت میں جمع کروایا گیا ہے۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر انہیں لیبیا میں مقدمہ چلا کر سزائے موت دے دی گئی تو یہ ایک قتل کے مترادف ہو گا۔

سیف الاسلام نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’میں مرنے سے نہیں ڈرتا لیکن اگر آپ مجھے ایسے کسی مقدمے کے بعد ہلاک کرتے ہیں تو آپ کو اسے قتل کہنا چاہیے‘۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت یا آئی سی سی نے ان پر باغیوں کے خلاف پرتشدد کارروائیاں کرنے پر انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

آئی سی سی اس مقدمے کے لیے انہیں دی ہیگ منتقل کرنا چاہتی ہے جبکہ لیبیا کی عبوری انتظامیہ ان پر لیبیا میں ہی مقدمہ چلانے پر مُصِر ہے۔

چالیس سالہ سیف الاسلام اس وقت لیبیا کے شہر زنتان میں زیرِ حراست ہیں۔ انہیں پچھلے سال نومبر میں ایک ملیشیا گروپ نے پکڑا تھا۔

حال ہی میں سیف الاسلام کی وکیل میلنڈا ٹیلر نے لیبیا میں چار ہفتے کی حراست سے رہائی کے بعد کہا تھا کہ ان کے مؤکل کو لیبیا میں انصاف ملنے کو کوئی امید نہیں ہے۔

میلنڈا ٹیلر اور آئی سی سی کے تین دوسرے اہلکاروں نے جب رواں برس جون میں سیف الاسلام سے ملاقات کی تھی تو لیبیا کی عبوری انتظامیہ نے انہیں گرفتار کر کے ان پر جاسوسی کا الزام عائد کیا تھا۔

اسی بارے میں