سوڈان اور جنوبی سوڈان میں تیل تنازعہ حل

سوڈان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سوڈان میں تیل اور سرحد کے تنازعے نے جنگی صورت حال اختیار کر رکھا تھا۔

سوڈان اور جنوبی سوڈان نے تیل کی قیمت کا تنازعہ آپس میں حل کر لیا ہے جس کے لیے اس سال کے شروع میں دونوں ممالک آمادۂ جنگ تھے۔

اس معاہدے میں ثالثی کرنے والے جنوبی افریقہ کے سابق صدر تھابو ایمبیکی نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے سامنے شمال سے ہوکر تیل کی درآمد پربات چیت ہونی ابھی باقی ہے جس میں وہ ایک ٹائم ٹیبل طے کریں گے۔

دونوں ممالک نے یہ تنازعہ ایک ایسے وقت میں حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب امریکہ کی وزیر خارجہ ہلیری افریقی ممالک کے دورے پر ہیں۔ جمعہ کو انہوں نے جنوبی سوڈان کا دورہ کیا تھا اور وہاں کے صدر سے ملاقات سے پہلے انہوں نے کہا تھا کہ کہ امریکہ سوڈان کی حمایت کرتا ہے لیکن وہ دونوں ممالک سے اس بات پر روز دیں گی کہ وہ آپسی بات چیت سے اختلافات کو کم کریں۔

اپنے شمالی پڑوسی سوڈان کے ساتھ تیل کی درآمد کی قیمتوں پر سمجھوتہ نہ ہونے کے باعث جنوبی سوڈان نے اپنے تیل کی پیداوار بند کر دی تھی۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک کی معیشت پر ان تنازعات کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے تھے۔

جنوبی سوڈان اور سوڈان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور سوڈان کے راستے تیل لے جانے پر موصول کا تنازع ختم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی ڈیڈلائن جمعرات کو ختم ہوگئی ہے۔

افریقی یونین کے ثالث تھابو ایمبیکی نے ایتھوپیا کے دارالحکومت عدیس ابابا میں کہا کہ ’'فریقین نے تمام مالی امور اور تیل کے انتظامات کے سلسلے رضامندی ظاہر کی ہے۔‘

واضح رہے کہ عدیس ابابا میں افریقی یونین کی امن و سلامتی کی کونسل کا اجلاس جاری ہے۔

گزشتہ برس جولائی میں جب جنوبی سوڈان نے آزادی حاصل کی تھی تو اس نے تین چوتھائی تیل کے ذخیرے اپنے حصہ میں لے لیے تھے لیکن تیل درآمد کرنے والی ساری پائپ لائنز سوڈان سے ہوکر گزرتی ہیں۔

اسی بارے میں