شام: دمشق کے قریب سے ایرانی زائرین اغواء

فائل فوٹو، تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ایرانی زائرین دمشق میں مقدس مذہبی مقام سیدہ زینب کے مزار پر آتے ہیں

شام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دارالحکومت دمشق کے قریب بس میں سوار پچاس ایرانی زائرین کو نامعلوم افراد نے اغواء کر لیا ہے۔

ایرانی سفارت کاروں کے مطابق زائرین کو سیدہ زینب کے مزار کے قریب سے مسلح گروہوں نے اغوا کیا ہے۔

اس کے بعد شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے اغواء کے واقعے کے بارے میں مزید تفصیل بتائی۔

دریں اثناء اطلاعات کے مطابق دمشق کے مضافات میں اور شام کے دوسرے بڑے شہر حلب میں تازہ جھڑپیں ہوئی ہیں۔

ان علاقوں میں باغی اپنی پوزیشنز مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا نیوز کے مطابق ایرانی زائرین کو’مسلح دہشت گرد گروہوں‘ نے اغوا کیا ہے اور حکومت اس صورتحال سے نمٹنے کے حوالے سے کام کر رہی ہے۔

ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ایرانی زائرین دمشق میں مقدس مذہبی مقام سیدہ زینب کے مزار پر آتے ہیں۔

اس علاقے میں حالیہ ہفتوں حکومتی فورسز اور باغیوں کے مابین شدید لڑائی ہوئی ہے۔

شام میں گزشتہ کئی ماہ کے دوران ایرانی زائرین کو اغواء کرنے کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں تاہم ان زائرین میں سے زیادہ تر کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔

اس سے پہلے گیارہ مئی کو ایران سے شام آنے والے گیارہ لبنانی زائرین کو اغواء کیا گیا تھا لیکن تین دن کے بعد ان کو رہا کر دیا گیا تاہم اس واقعہ کے خلاف لبنان میں پرتشدد مظاہرے ہوئے۔

شام کے بحران کی وجہ سے لبنان میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

دریں اثناء شام کے دو بڑے شہروں میں اطلاعات کے مطابق باغیوں اور حکومتی سکیورٹی فورسز کے مابین تازہ جھڑپیں ہوئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حلب میں سکیورٹی فورسز نے باغیوں کے خلاف کارروائی شروع کر رکھی ہے

شام کے دوسرے بڑے شہر حلب میں حکومتی سکیورٹی فورسز نے ان علاقوں میں شدید بمباری کی ہے جہاں پر باغی موجود ہیں۔

اس کے علاوہ کئی اضلاع میں حکومتی سکیورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں ہیں۔

شام میں حزب اختلاف کے کارکنوں کی جانب سے جاری کی جانے والے ویڈیو فوٹیج میں ایک جنگی جہاز صلاح الدین کے علاقے میں’باغیوں کے مرکز‘ پر اوپر پرواز کرتے دکھائی دیتا ہے اور اس کے بعد وہاں زور دار دھماکہ ہوا۔

دارالحکومت دمشق کے مرکزی حصوں سے فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں۔ حزب اختلاف کے مطابق شہر کے مغربی علاقوں میں بھی جھڑپیں ہو رہی ہیں۔

اس سے پہلے چین اور روس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے سلامتی کونسل کے خلاف منظور کردہ قرار داد کی مذمت کی ہے۔

اس قرارداد میں جنرل اسمبلی نے سلامتی کونسل کی مذمت کی تھی کہ وہ شام میں تشدد روکنے میں ناکام رہی ہے۔

شام میں حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ ملک میں گزشتہ سترہ ماہ سے جاری بدامنی میں بیس ہزار کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر عام شہری ہیں۔

اسی بارے میں