ترکی: چالیس اعلیٰ فوجی افسران سبکدوش

ترکی فوجی تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ترکی فوج کو سیلور آئین کا محافظ تسلیم کیا جاتا ہے۔

ترکی کی اعلیٰ فوجی کمانڈ نے ملک میں تختہ الٹنے کی سازش کرنے کے الزام میں چالیس اعلی فوجی افسروں کو سبکدوش کردیا ہے۔

واضح رہے کہ ابھی تک ان چالیس افسران پر حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کا الزام ہے اور وہ سارے جرنل اور ایڈمیرل فی الحال حراست میں ہیں۔

ترکی کی سپریم ملٹری کونسل (وائی اے ایس) نے کہا ہے کہ یہ چالیس افراد ان 55 افراد میں شامل ہیں جن کو ان کی خدمات سے سبکدوش کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ سنہ دو ہزار آٹھ سے سینکڑوں افسروں کو اسلامی رجحانات رکھنے والے وزیراعظم طیب اردگان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

مبینہ طور پر حکومت گرانے کی سازشوں کی ہونے والی تفتیش نے ترکی کی سیاست میں تاریخی طور پر فوج کے شدید اثر و رسوخ کو کم کیا ہے۔

گزشتہ سال فوج کے سربراہ نے ان گرفتاریوں کے خلاف احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا تھا۔

حکمراں جسٹس اینڈ ڈولپمنٹ پارٹی (اے کے پی) کے ناقدین کا خیال ہے کہ یہ تفتیش سیاسی چال ہے۔

اس مبینہ بغاوت کی سازش کے الزام میں سرکردہ تعلیمدان، صحافی اور وکلاء بھی حراست میں لیے گئے ہیں۔ ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اپنے خلاف سماعت کا انتظار کر رہے ہیں اور کچھ تو ایسے ہیں جن کے خلاف ابھی تک فرد جرم بھی عائد نہیں کی گئی ہے۔

ترکی کی فوج کو ملک کے سیکولر آئین کے ضامن کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اس نے انیس سو ساٹھ سے انیس سو اسّی کے دوران تین بار حکومتوں کا تختہ الٹایا۔

وائی اے ایس نے سنیچر کو سینتالیس کرنلوں کو ترقی دے کر جنرل اور ایڈمیرل بنایا ہے۔ اور حکمراں جماعت کے اس فیصلے کو صدر عبداللہ گل کی منظوری حاصل ہے۔

اسی بارے میں