’گوردوارے پر فائرنگ سابق فوجی نے کی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس حملے کے خلاف امریکہ میں سکھوں نے مظاہرے بھی کیے ہیں

امریکی حکام کے مطابق ریاست وسکنسن میں ایک گوردوارے پر فائرنگ کر کے چھ افراد کو ہلاک کرنے کا ملزم ایک سابق امریکی فوجی ہے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس کی فائرنگ سے مارے جانے والا حملہ آور چالیس سالہ ویڈ مائیکل پیج تھا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے نائن ایم ایم پستول استعمال کی اور پولیس کے سربراہ جان ایڈورڈز کا کہنا ہے کہ ویڈ نے تنہا ہی یہ کارروائی سرانجام دی۔

فائرنگ کا یہ واقعہ اتوار کی صبح اوک کریک شہر میں پیش آیا تھا۔ اس حملے میں چھ افراد ہلاک اور تین شدید زخمی ہوئے تھے اور ایک پولیس افسر نے حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی ایک ترجمان ٹیریسا کارلسن نے کہا کہ حملہ آور کے سفید فام شدت پسند گروہوں سے ممکنہ تعلق کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حملہ کرنے والے شخص کے گھر والوں اور دوستوں کو تلاش کیا جارہا ہے اور تمام سوالوں کے جواب معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

’یہ عمل اس وقت جاری ہے اس لیے ہمیں اب تک جو معلومات ملی ہیں ان کی تفصیل ابھی نہیں بتاسکتی، بلاشبہ ہم سفید فام شدت پسند گروہوں سے تعلق کی بھی تحقیقات کررہے ہیں۔‘

ادھر امریکی صدر باراک اوبامہ نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ امریکی عوام نسل پرستی کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔

انہوں نے لوگوں کے مجمع پر فائرنگ کے پے در پے واقعات رونما ہونے پر تشویش کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ وہ تشدد کے خاتمے کے لیے مقامی رہنماؤں سے بات چیت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’میرے خیال میں ہم سب اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اس طرح کے لرزہ خیز اور المناک واقعات بہت زیادہ باقاعدگی سے ہورہے ہیں اس لیے ہمیں اس پر غور کرنا ہے کہ تشدد میں کمی کے لیے کونسے اضافی راستے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس میں کئی عناصر ملوث ہیں اور میں یہ چاہتا ہوں کہ قانون نافذ کرنے والوں، کمیونٹی کے عمائدین، مذہبی رہنماؤں اور منتخب رہنماؤں کو ہر سطح پر قریب لایا جائے تاکہ یہ سوچا جاسکے کہ ہم اس کے لیے پیش رفت کس طرح جاری رکھ سکتے ہیں۔‘

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مسلح شخص ایک گنجا سفید فام شخص تھا جبکہ حقوقِ انسانی کے ایک گروپ ’سدرن پوورٹی لاء سنٹر‘ نے ویڈ مائیکل پیج کو ’جھنجھلاہٹ کا شکار نیو نازی‘ قرار دیا ہے۔

پولیس نے اتوار کو کہا تھا کہ وہ اس واقعے کو اندرونی دہشتگردی کے واقعے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق حملہ آور ویڈ مائیکل نے اپریل انیس سو بانوے سے اکتوبر انیس سو اٹھانوے کے درمیان امریکی فوج میں خدمات سرانجام دیں۔

ایک وفاقی افسر نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ویڈ کا فوجی کیریئر اس وقت ختم ہوا جب انکا عہدہ سارجنٹ سے کم کر کے سپیشلسٹ کر دیا گیا۔ تاہم افسر نے اس تنزلی کی وجہ بیان نہیں کی۔

حکام نے تاحال اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے نام ظاہر نہیں کیے ہیں۔

اوک کریک کی آبادی تیس ہزار کے قریب ہے اور یہاں یہ گوردوارہ یہ سنہ انیس سو ستانوے میں تعمیر کیا گیا تھا اور اس میں ساڑھے تین سو سے چار سو افراد اجتماعی طور پر عبادت کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں