حلب:’بھاری ہتھیاروں کے استعمال پر تشویش‘

تصویر کے کاپی رائٹ b

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے شام کے شہر حلب میں بڑے پیمانے پر بھاری ہتھیار کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ نئی سیٹیلائٹ تصاویر سے بھاری ہتھیاروں کے استعمال کی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ تنظیم نے حلب میں اور اس کے مضافات میں شہریوں کو خطرے پر تشویش ظاہر کی ہے۔

ایمنسٹی کے مطابق ان سیٹیلائٹ تصاویر میں چھ سو گہرے کھڈے دیکھے جا سکتے ہیں جو بھاری ہتھیاروں کے استعمال کے باعث پڑے ہیں۔

تنظیم نے کہا ہے کہ حکومتی فورسز اور باغیوں دونوں کو شہریوں کی حفاظت نہ کرنے کے جرم میں ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

ایک بیان میں ایمنسٹی نے بتایا کہ حلب اور گرد و نواح کی نئی تصاویر سے ’ظاہر ہوتا ہے کہ حلب شہر کے اندر اور گرد و نواح میں، جن میں رہائشی علاقے شامل ہیں، بھاری اسلحہ استعمال کیا جا رہا ہے۔‘

ادارے کے مطابق قریبی قصبے عندان میں فوج اور باغی دستوں کے درمیان شدید جھڑپوں کے بعد ’بعض تصاویر میں چھ سو ممکنہ توپ کے گولوں کے گڑھے نظر آتے ہیں۔‘ ایک گڑھا بظاہر ایک رہائشی عمارت کے قریب ہے۔

ادارے کے ایمرجنسی ریسپانس مینجر برائے امریکہ کرسٹوف کوٹل نے بتایا ’ایمنسٹی انٹرنیشنل فریقین کو دو ٹوک پیغام دینا چاہتی ہے کہ شہریوں کے خلاف کیے جانے والے تمام حملوں کا واضح ریکارڈ رکھا جائے گا تاکہ ان کے مرتکب افراد کا احتساب کیا جا سکے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’شام کے سب سے گنجان آباد شہر کو میدانِ جنگ بنا دینے سے شہریوں پر تباہ کن اثرات پڑیں گے۔ شام میں پہلے ہی قتل و غارت بڑھتی جا رہی ہے۔‘

اسی بارے میں