بے لگام صحرائے سینا اور جہادی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گزشتہ اتوار کو اسرائیل اور مصر کی سرحد پر ایک چیک پوسٹ پر مسلح افراد کے حملے میں کم از کم پندرہ مصری پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے

مصر اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ کیمپ ڈیوڈ طے پانے کے کئی دہائیوں کے بعد سینائی خطے میں رواں ماہ پرتشدد واقعات نے وہاں موجود سکیورٹی خدشات کی ناگوار یاد دلائی ہے۔

افریقہ اور ایشیا کے درمیان گھرے اس بنجر اور جزوی طور پر پہاڑی جزیرہ نما خطے میں سکیورٹی انتظامات ہمیشہ سے ایک مسئلہ رہے ہیں۔

ساٹھ ہزار مربع کلومیٹر کے اس وسیع علاقے کی آبادی چار لاکھ کے قریب ہے اور یہ آبادی یہاں بکھرے ہوئے مختلف قبائل پر مشتمل ہے۔

اس خطے میں بسنے والے زیادہ تر لوگ خود کو پسماندہ سمجھتے ہیں اور ان کے خیال میں اندرون ملک ترقیاتی کاموں کے لیے مختص رقم میں سے ان کو حصہ نہیں ملتا ہے۔

ان لوگوں نے علاقے میں خلیج الکعبہ کے سیاحتی مقام شرم الشیخ، دوہاب اور نوآبہ میں حکومت کی جانب سے سیاحتی ڈھانچے پر بڑی سرمایہ کاری کو دیکھا لیکن وہ شکایت کرتے ہیں کہ اس کے فوائد ان تک نہ ہونے کے برابر پہنچے ہیں۔

اس علاقے میں سیاحتی سرگرمیوں شروع ہونے پر کئی اس سے جڑے روزگار سے وابستہ ہو گئے لیکن ان میں سے کئی نے اپنی سمگلنگ شروع کر دی۔

اس میں منشیات، بندوقیں، دھماکہ خیز مواد، سگریٹ بھی ہو سکتے ہیں، لیکن کوئی نہیں جانتا ہے کہ جنوبی سینائی خطے کے پہاڑی دروں اور غزہ کی پٹی اور اسرائیل سے متصل بنجر پہاڑوں میں کیا ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس بنجر اور ویران علاقے میں سمگلنگ کے کئی خفیہ راستے ہیں

مصری سکیورٹی فورسز نے پولیس کو اس خطے کی دور افتادہ علاقوں میں چیک پوسٹوں پر تعینات کیا، اور یہ تقریباً سزا دینے کے برابر تھا، یہ ایک اجبنی سرزمین میں جلاوطنی تھی۔

اس خطے میں سکیورٹی کا معاملہ آتا ہے تو اس کئی پہلو ہیں جن کی مدد سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ خطہ آجکل اسرائیل اور مصر کے لیے ایک مسئلہ کیوں بنا ہوا ہے۔

اسرائیل نے سنہ انیس سو تہتر کی جنگ کے دوان قبضے میں لیے گئےمشرقی سینائی خطے کو نومبر سال انیس سو بیاسی میں مصر کے حوالے کر دیا۔

تاریخ کے طالب علم کے طور پر میں نے اس وقت دیکھا کہ اسرائیل کی جانب سے خالی کردہ خندوقوں کے بعد مصری فوج اس علاقے میں داخل ہوئی اور وہاں سیاحت کے حوالے سے ہبرانی زبان میں لکھے نشانات چھوڑ گئے تھے۔

ان میں سے ایک ہوٹل ون تھا جسے اسرائیلی افیرا گریو کہتے تھے اور اب ایک بڑے سیاحتی مقام شرم الشیخ میں تبدیل ہو چکا ہے۔

1979 کے کیمپ ڈیولا معاہدے کی شرائط کے تحت شمالی اور جنوبی سینائی خطے میں دو اڈے قائم کیے گئے، جن میں سے زیادہ تر امریکی اور مختلف بیرونی ممالک کے فوجی اور مصبرین تعینات تھے تاکہ مصری اور اسرائیل فوج کے درمیان کسی ممکنہ تصادم کو روکا جا سکے۔

تاہم علاقے میں ایک بڑے سیاحتی مقام شرم الشیخ اور بین الاقوامی مبصرین کی موجودگی سینائی خطے کو مصیبت سے نہیں بچا سکی۔

سال دو ہزار پانچ میں شرم الشیخ میں بم دھماکوں کے نتیجے میں اسی لوگ مارے گئے اور اس کے بعد جنوبی سینائی خطے کے گورنر نے یقین دہانی کرائی تھی کہ سکیورٹی انتظامات میں بہتری کے بعد ایسے واقعات دوبارہ رونما نہیں ہونگے۔

لیکن شمالی سینائی خطے میں گزشتہ دو سال کے دوران کئی پرتشدد واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں مصر سے اسرائیل کو گیس فراہم کرنے والح پائپ لائنوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ان حملوں میں دو طرح کے لوگ ملوث ہیں جو کہ مصر اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کو تسلیم نہیں کرتے اور دوسرا صحرا کے رہائشی قبائلی بدُو جو مصری حکومت کے خلاف غصے کے اظہار پر اس طرح کے اقدامات کرتے ہیں۔

مصر اور غزہ کی پٹی کی سرحد پر واقع خفیہ زیرزمین سرنگیں کافی عرصے سے قائم ہیں اور یہ ان فلسطینیوں کے لیے سمگلنگ کا اہم ذریعہ ہے جو اپنی سرزمین چھوڑ نہیں سکتے ہیں۔

تاہم اتوار کو شدت پسندوں کی جانب سے مصری پولیس کی سرحدی چوکی پر حملے کے بعد فوج نے ان سرنگوں کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

غزہ کی پٹی کے ساتھ سرحد پر جو بھی اقدامات کیے جائیں ان سے سینائی خطے کے ذریعے سمگلنگ کو روکنا ناممکن ہو گا۔

ایک طرف خیلج سویز اور دوسری طرف خلیج الکعبہ کی موجودگی میں سمگلنگ اس خطے میں کئی لوگوں کے لیے ایک منافع بخش کام ہے اور اس میں عین ممکن ہے کہ سرکاری افسران بھی شامل ہوں۔

اس صورتحال میں اور خاص طور پر جب علاقے میں لوگوں کے پاس معاشی مواقع کم ہوں تو سکیورٹی میں خامیوں کا اچھی خاصی گنجائش ہے۔

صحرا میں بسنے والے بدو قبائل اپنے میزبانی اور تواضح میں کوئی ثانی نہیں رکھتے، وہ بڑے گھمنڈ سے کہتے ہیں کہ علاقے میں چھپائے گئے اسلحے کے ذخائر کو پولیس ہزاروں سال تک برآمد نہیں کر سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سینائی خطے میں بنسے والے بدو قبائل مصر کی مرکزی حکومت سے خائف ہیں

اس علاقے کا اسرائیل کے ساتھ موجود ہونا اور یہاں حکومت کی عمل داری نہ ہونے کے برابر ہونے کی صورت میں یہ علاقے ان جہادیوں کے لیے ایک پرکشش خطے بن سکتا ہے جو القاعدہ پر تنقید کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل پر ایک بھی حملہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ان میں سے کئی یمن اور پاکستانی کے قبائلی علاقوں کو تربیت کے مراکز کو تربیت حاصل کرنے اور وہاں سے حملوں کی منصوبہ بندی کے حوالے سے منتخب کرنے کی خواہش کا اظہار کر سکتے ہیں۔

اس علاقے کی ساحلی پٹی پر موجود سیاحی مقام پر آنے والے غیر ملکی سیاح ان جہادیوں کے لیے ایک آسان ہدف ہو سکتے ہیں اگرچہ سال دو ہزار پانچ، چھ میں کیے جانے والے حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد غیر ملکی سیاحوں کی بجائے مصریوں کی تھی۔

ان واقعات کے بعد اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ سیاحتی مقام کے ارد گرد سکیورٹی کے موثر ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔

اتوار کو مصری پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد مصر کی حکومت نے سخت ترین ردعمل کا اظہار کیا ہے تاہم جہادیوں کو سینائی خطے کے مقامی افراد کی جانب سے حمایت کی صورت میں کافی مشکل کو سامنا ہو سکتا ہے۔

بدھ کو مصری فوج کی جانب سے ٹیلی ویژن پر پڑھے جانے والے ایک بیان میں براہ راست اپیل کی گئی یا کچھ ایسا تھا جس میں اپنی کوتاہوں کا احاطہ کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا کہ’ہم اپنے قبائلیوں اور رہائشیوں سے کہتے ہیں کہ وہ تعاون کریں تاکہ سینائی خطے میں سکیورٹی کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔‘

اسی بارے میں