’خونریزی اور شامی حکومت کا خاتمہ اولین مقصد‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پہلا مقصد جلد از جلد خونریزی اور اسد حکومت کا خاتمہ ہے: ہلیری کلنٹن

امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ شام کے بحران کا حل تلاش کرنے کے لیے امریکہ اور ترکی ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کر رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بات سنیچر کو ترکی کے دورے کے دوران استنبول میں ترک صدر، وزیراعظم اور دیگر اہم رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بعد کہی۔

ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ترکی شام میں حزبِ اختلاف کی حمایت کی کوششوں کے لیے مل کر کام کرتے رہے ہیں اور امریکہ اور ترکی شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت ختم ہونے کی صورت میں شام میں انتقال اقتدار کی تیاریوں کے حوالے سے بھی تیاری بھی کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ترک رہنماؤں سے ملاقات میں شام کے سلسلے میں بدترین ممکنات بھی زیرِ غور آئے جن میں شامی حکومت کی جانب سے باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا امکان بھی شامل تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ بیس لاکھ شامیوں کو امداد کی ضرورت ہے اور امریکہ شام سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے امدادی رقم میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔ ترکی میں اس وقت پچاس ہزار سے زائد شامی پناہ گزین موجود ہیں اور ان کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

استنبول میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار بیتھنی بیل کا کہنا ہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ کے ترک حکام سے مذاکرات کا اہم حصہ شام کے حزبِ مخالف ارکان میں تعاون کو مزید بہتر بنانے پر مشتمل تھا۔

ہلیری کلنٹن نے بتایا کہ انہوں نے ترک وزیرِ خارجہ سے ملاقات میں اس بات پر بھی غور کیا کہ شام میں حزبِ مخالف کی بہترین امداد کس طریقے سے ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترک ہم منصب احمد داؤد اوغلو سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ’شام میں تشدد کے خاتمے اور صدر الاسد کے بغیر ایک جمہوری حکومت کے قیام کی کوششوں کے سلسلے میں شامی حزبِ اختلاف کی مدد کے ممکنہ طریقوں پر غور کیا‘۔

ہلیری کلنٹن نے کہا کہ ’ہمارا پہلا مقصد جلد از جلد خونریزی اور اسد حکومت کا خاتمہ ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے خفیہ اداروں اور فوج پر اہم ذمہ داریاں ہیں اور انہیں اہم کردار بھی ادا کرنا ہے جس کے لیے ہم نے ایک ورکنگ گروپ کے قیام کا فیصلہ کیا ہے‘۔

اسی بارے میں