’پناہ گزینوں کی کارروائی دیگر ممالک میں کی جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پینل کی سفارشات کو آسٹریلیا کی پناہ گزینوں سے متعلق پالیسی کے لیے ایک دھچکہ قرار دیا ہے

آسٹریلوی وزیرِ اعظم کی جانب سے کمیشن کی گئی ایک رپورٹ کی تجویز ہے کہ آسٹریلیا کے ساحلوں پر بذریعہ سمندر آنے والے مبینہ پناہ گزینوں کو دستاویزی کارروائی کے لیے دیگر ممالک میں بھیجا جانا چاہیے۔

ماہرین کے پینل کا کہنا ہے کہ آسٹریلوی پارلیمان کو نئے قوانین کی منظوری دینی چاہیے جن کے تحت نئے پناہ گزینوں کو ملیشیاء، پاپا نیو گنی اور ناورو بھیجا جانا چاہیے۔

پینل کے سربراہ، سابق دفاعی چیف اینگس ہیوسٹن، کا کہنا ہے کہ پناہ کے امیدواروں کی آسٹریلوی سرزمین پر دستاویزی کارروائی کرنے سے لوگوں کے کشتیوں سے چھلانگیں لگانے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ سنہ دو ہزار ایک سے اب تک تقریباً ایک ہزار پناہ گزین آسٹریلیا پہنچنتے ہوئے سمندر کی نظر ہو چکے ہیں۔

ماہرین کے پینل کا مقصد پناہ گزینوں کی آمد کی رفتار کو کم کرنا ہے۔ ان کی تجاویز میں اہم سیاسی جماعتوں کی جانب سے دی گئی پالیسیوں کو شامل کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ آسٹریلیا میں پناہ گزینوں کے معاملے پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پینل کی سفارشات کو آسٹریلیا کی پناہ گزینوں سے متعلق پالیسی کے لیے ایک دھچکہ قرار دیا ہے۔

وزیرِ اعظم جولیہ گلارڈ نے چھ ہفتے قبل اس رپوٹ کو تیار کروانے کی اس وقت منظوری دی تھی جب عام لوگوں کو سمگل کرنے والی دو کشتیاں انڈونیشیا اور آسٹریلیا کے بیچ سمندر میں پھسی رہیں اور اطلاعات کے مطابق تقریباً نوے پناہ گزین ڈوب کر ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں