ایران:227 ہلاکتوں کی تصدیق، سولہ ہزار بےگھر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زلزلے سے بیس دیہات مکمل طور پر تباہ ہوگئے جبکہ سینکڑوں دیہات میں جزوی نقصان ہوا

ایران میں سنیچر کو شمال مشرقی شہر تبریز اور اس کے گردونواح میں آنے والے دو زلزلوں سے متاثرہ افراد کی امداد کا کام تیز کر دیا گیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق زلزلے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کم از کم دو سو ستائیس ہے جبکہ دو ہزار سے زیادہ لوگ زخمی ہیں۔

ان ہلاکتوں پر ایران میں دو روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

ایرانی ہلالِ احمر نے تبریز میں ایک سٹیڈیم میں چھ ہزار ٹینٹ نصب کر کے زلزلے کے نتیجے میں اپنے گھربار سے محروم ہونے والے سولہ ہزار افراد کے قیام کا انتظام کیا ہے۔

ادھر ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں تلاش اور بچاؤ کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور متاثرین کی گنتی پوری ہوگئی ہے۔ تاہم ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ اب بھی کچھ افراد لاپتہ ہیں۔

امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق پہلے زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر چھ اعشاریہ چار تھی اور یہ مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بج کر تیئیس منٹ پر آیا۔ اس جھٹکے کے گیارہ منٹ بعد چھ اعشاریہ تین شدت کے ایک اور زلزلے نے اسی علاقے کو دوبارہ ہلا ڈالا۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق زلزلے سے بیس دیہات مکمل طور پر تباہ ہوگئے جبکہ سینکڑوں دیہات میں جزوی نقصان ہوا۔

زلزلے کا نشانہ بننے والے قصبے اہار کے سینتالیس سالہ رہائشی مرتضیٰ جاوید کا کہنا تھا کہ ’جب زلزلہ آیا تو ایسا لگا کہ زمین کے نیچے کوئی اژدھا پھنکار رہا ہے۔ یہ میری زندگی کا بدترین تجربہ تھا‘۔

زلزلے سے متاثرہ علاقہ اپنے سرد موسم کے لیے جانا جاتا ہے اور ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے علاقے میں فوری طور پر تعمیرِ نو کا عمل شروع کرنے کی ہدایت کی ہے اور ایرانی حکومت نے منہدم ہونے والے مکانات کی تعمیر کے لیے رقم فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

زلزلے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں صورتحال ابھی واضح نہیں ہو سکی۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISNA
Image caption متاثرہ علاقوں میں تلاش اور بچاؤ کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کے وزیرِ داخلہ مصطفیٰ نجار نے سرکاری ٹی وی کو بتایا ہے کہ زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو سو ستائیس ہے جبکہ ایک ہزار تین سو اسّی افراد زخمی ہیں۔ تاہم متاثرہ علاقے کے حکام اور امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین سو کے لگ بھگ ہے جبکہ پانچ ہزار لوگ زخمی ہیں۔

ایرانی وزیرِ داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’تلاش اور بچاؤ کا عمل مکمل ہوگیا ہے اور اب ہم پناہ گاہوں اور خوراک کے متلاشی متاثرین کی ضروریات پورا کرنے کے لیے کوشاں ہیں‘۔

ایرانی حکام کے مطابق چونکہ متاثرہ علاقے زیادہ گنجان آباد نہیں اس لیے رہائشیوں کی گنتی کا عمل جلد مکمل ہوگیا ہے۔

ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای کی اپیل پر ملک بھر سے امدادی کارکن متاثرہ علاقے میں پہنچ گئے ہیں اور ایرانی ہلالِ احمر نے ٹنوں خوراک، پانی اور ادویات تقسیم کی ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق ایران نے امریکہ، ترکی، تائیوان، سنگاپور اور جرمنی کی جانب سے امداد کی پیشکش سے یہ کہتے ہوئے معذرت کر لی ہے کہ وہ اس آفت سے اپنے بل بوتے پر نمٹ سکتا ہے۔

تاہم تبریز میں طبی حکام کا کہنا ہے کہ شہر کے ہسپتال زخمیوں سے بھر چکے ہیں اور شہر کے رہائشی اب بھی اپنے لاپتہ عزیزوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔

خیال رہے کہ ایران ایک متحرک فالٹ لائن پر واقع ہے اور یہاں ماضی میں بھی زلزلے آتے رہے ہیں جن میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ سنہ دو ہزار تین میں ایرانی شہر بام میں آنے والے زلزلے سے پچیس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں