’برطانوی بینک کے خلاف تحقیقات جاری رہیں گی‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 15 اگست 2012 ,‭ 01:09 GMT 06:09 PST

بینک کے مطابق متنازع لین دین صرف ایک کروڑ چالیس لاکھ ڈالر کا تھا

امریکی وفاقی اداروں کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے منی لانڈرنگ کے الزامات کے بعد برطانوی بینک سٹینڈرڈ چارٹرڈ کے نیویارک میں مالیاتی نگران ادارے سے معاہدے کے باوجود وہ بینک کے خلاف تحقیقات جاری رکھیں گے۔

امریکہ میں بینکاری کے نگران ادارے نے سٹینڈرڈ چارٹرڈ پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے ایران کے ساتھ ڈھائی سو ارب ڈالرز کے غیر قانونی لین دین کو پوشیدہ رکھا ہے۔

اس معاملے کی سماعت بدھ کو ہونا تھی لیکن اب بینک اور نگران ادارے کے درمیان معاہدہ ہو جانے کے بعد اسے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

اس معاہدے کے تحت سٹینڈرڈ چارٹرڈ نے چونتیس کروڑ ڈالر کا جرمانہ ادا کرنے اور اپنی نیویارک برانچ میں مستقبل میں ہونے والے لین دن کی نگرانی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

امریکہ محکمۂ خزانہ، محکمۂ انصاف اور فیڈرل ریزرو کا کہنا ہے کہ وہ ان الزامات کی تحقیقات کرتے رہیں گے۔ ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے سبب اس پر کئی طرح کے پابندیاں عائد ہیں جن کے تحت اس کے ساتھ لین دین سے امریکی قوانین کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

برطانوی بینک نے تسلیم کیا ہے کہ کاروباری لین دین سے متعلق اس کی کچھ سرگرمیوں سے امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے، لیکن اس کا کہنا ہے کہ یہ لین دین صرف ایک کروڑ چالیس لاکھ ڈالر کا تھا۔

بینکنگ کے نگران ادارے کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’مالیاتی خدمات سے متعلق نیویارک کے سرکاری محکمے اور سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے درمیان اس معاملے میں سمجھوتہ ہو گیا ہے جو چھ اگست کو اٹھایا گیا تھا۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اس معاملے میں کم از کم ڈھائی سو ارب ڈالر کا لین دین ہوا‘۔

چونتیس کروڑ کا جرمانہ

معاہدے کی شرائط کے مطابق بینک ادارے کو چونتیس کروڑ ڈالر بطور ’جرمانہ‘ دے گا۔ اس کے ساتھ بینک میں ایک نگران بھی مقرر کیا جائے گا جو نیویارک میں سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کی برانچ میں غلط طریقے سے پیسہ باہر بھیج جانے کو روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ کرے گا اور براہ راست نگران ادارے کو اس بارے میں مطلع کرے گا۔

وہیں سٹینڈرڈ چارٹرڈ کی طرف سے جاری کردہ مختصر بیان میں چونتیس کروڑ ڈالر میں معاہدہ ہونے کی بات کہی گئی ہے۔

معاہدے کی شرائط کے مطابق بینک ادارے کو چونتیس کروڑ ڈالر بطور ’جرمانہ‘ دے گا۔ اس کے ساتھ بینک میں ایک نگران بھی مقرر کیا جائے گا جو نیویارک میں سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کی برانچ میں غلط طریقے سے پیسہ باہر بھیج جانے کو روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ کرے گا اور براہ راست نگران ادارے کو اس بارے میں مطلع کرے گا۔

بی بی سی کے نیویارک کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ہرجانے کے طور پر دی جانے والی چونتیس کروڑ کی رقم ایک بڑی رقم ہے، لیکن یہ اس سے کہیں کم ہے جو سمجھوتہ نہ ہونے کی صورت میں سٹینڈرڈ چارٹرڈ کو بھگتنا پڑ سکتا تھا۔ بینکاری کے نگران ادارے نے سٹینڈرڈ چارٹرڈ کا لائسنس تک منسوخ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

نگران ادارے کا کہنا ہے کہ سٹینڈرڈ چارٹرڈ کی امریکی برانچ نے ایران کے ساتھ ساٹھ ہزار کاروباری لین دین کیے ہیں جن کی مالیت 250 ارب ڈالر تھی وہیں بینک کا کہنا ہے کہ صرف تین سو ایسے لین دین تھے جن سے امریکی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔