امریکہ: مسلح شخص کی فائرنگ سے دو ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ AP

امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں حکام کے مطابق ٹیکساس یونیورسٹی کے قریب مسلح شخص کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار سمیت دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیس کی فائرنگ سے حملہ آور بھی مارا گیا ہے۔

حکام کے مطابق کالج سٹیشن شہر میں پیش آنے والے اس واقعے میں کئی افراد زخمی بھی ہو گئے ہیں جنہیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

گرینج کے معیاری وقت کے مطابق پانچ بج کی پینتالیس منٹ پر ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کی دو گلیوں کے اندر مسلح شخص نے حملہ کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کو فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ابھی تک وہ یہ واضح نہیں ہے کہ حملہ آور یونیورسٹی کا طالب علم تھا اور حملے کے کیا محرکات تھے۔

امریکی میڈیا کے مطابق فائرنگ میں ہلاک ہونے والا پولیس اہلکار فائرنگ شروع کیے جانے کے بعد لوگوں کو انخلاء کے لیے کہہ رہا تھا۔

کالج سٹیشن میڈیکل سینٹر کے حکام کے مطابق پانچ افراد زیر علاج ہیں جن میں سے تین گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔

زخمیوں میں تین پولیس اہلکار اور خاتون بھی شامل ہیں جن کی سرجری کی جا رہی ہے۔

پولیس کے نائب سربراہ سکاٹ میکولم نے ایک اخباری کانفرس میں بتایا کہ حملہ آور حراست میں لیے جانے سے پہلے فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق موسم خزاں کی کلاسیں شروع نہ ہونے کی وجہ سے فائرنگ کے وقت یونیورسٹی میں زیادہ تر طالب علم موجود نہیں تھے۔

امریکہ میں فائرنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اس سے پہلے گزشتہ ہفتے امریکی ریاست وسکونسن میں سکھوں کے گوردوارے پر مسلح شخص کی فائرنگ سے چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے جب کہ اس واقعہ سے چند دن پہلے امریکی ریاست کولوراڈو کے شہر آرورا کے ایک سینما گھر میں ایک مسلح شخص کی فائرنگ سے بارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ان واقعات کے بعد امریکہ میں گن کلچر ایک بار پھر زیربحث آ گیا تھا۔

حال ہی میں برطانوی اخبار گارڈین نے دنیا میں آتشیں اسلحہ رکھنے والے ملکوں کا ایک نقشہ شائع کیا ہے جس میں امریکہ کو اول نمبر پر بتایا گیا ہے۔ اس نقشے میں میں بندوقیں رکھنے والے ملکوں میں سب سے زیادہ بندوقیں امریکیوں کی بتائی گئی ہیں اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اٹھاسی اعشاریہ آٹھ فی صد افراد بندوق سے مارے جانے کے خطرے کی زد میں ہیں۔

اسی بارے میں