حقانی نیٹ ورک کو دہشتگرد قرار دینے پر غور

آخری وقت اشاعت:  بدھ 15 اگست 2012 ,‭ 23:40 GMT 04:40 PST

حقانی نیٹ ورک کو افغانستان میں حالیہ برسوں میں اہم حملوں کے لیے ذمہ دار سمجھا جاتا ہے

امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی کانگریس کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کی سرگرمیوں پر شدید تحفظات کے اظہار کے بعد اسے دہشتگرد گروہ قرار دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔

اوباما انتظامیہ بارہا پاکستانی حکام سے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنے پر زور دیتی رہی ہے لیکن امریکی حکومت نے اس کا نام تاحال دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں کیا ہے۔

امریکی صدر نے گزشتہ ہفتے اس مسودۂ قانون پر دستخط کیے ہیں جس کی رو سے امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن کو ایک ماہ میں اس کا بات کا تعین کرنا ہوگا کہ آیا حقانی نیٹ ورک ایک دہشتگرد گروہ کی تعریف پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔

محکمۂ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے منگل کو واشنگٹن میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران بتایا کہ ’ہم حقانی نیٹ ورک کی سرگرمیوں کے بارے میں کانگریس کے تحفظات سے متفق ہیں‘۔

اس سوال پر کہ وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن حقانی نیٹ ورک کو دہشتگرد گروہ قرار دیں گی دفترِ خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ’آپ جانتے ہیں کہ ہم اس نیٹ ورک کے کئی افراد کو دہشتگرد قرار دے چکے ہیں۔ صدر حقانی نیٹ ورک کے متعلق قانون پر پچھلے جمعے کو ہی دستخط کیے ہیں، قانون کے تحت حقانی نیٹ ورک کے بارے میں رائے دینے کے لیے وزیر خارجہ کے پاس تیس دن کا وقت ہے تو یہ وقت تو ابھی شروع ہوا ہے۔ وزیر خارجہ ان دنوں اس بارے میں غور کر رہی ہیں اور اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہیں‘۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ افغانستان میں موجود امریکی فوجوں حقانی نیٹ ورک سے کس طرح کے خطرات لاحق ہیں، تو ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں کئی بار بات کرچکی ہیں اور ان کے پاس اس میں شامل کرنے کے لیے کچھ نیا نہیں ہے۔ ’آپ جانتے ہیں کہ حقانی نیٹ ورک سے پاکستان کے اندر جس طرح کے خطرات ہیں اور سرحد پار بھی اس سے جس طرح کے خطرات درپیش ہیں، ان پر ہمیں سخت فکر لاحق ہے‘۔

"حقانی نیٹ ورک کے بارے میں رائے دینے کے لیے وزیر خارجہ کے پاس تیس دن کا وقت ہے تو یہ وقت تو ابھی شروع ہوا ہے۔ وزیر خارجہ ان دنوں اس بارے میں غور کر رہی ہیں اور اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہیں۔"

وکٹوریہ نولینڈ، ترجمان امریکی محکمۂ خارجہ

امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان نے اپنی قراردادوں میں محکمۂ خارجہ سے اس نیٹ ورک کو دہشتگرد گروپوں کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس کے نتیجے میں نہ صرف اس گروپ کے اثاثے منجمد ہو جائیں گے بلکہ اس کی مالی مدد کرنا بھی جرم ہوگا۔

تاہم محکمۂ خارجہ نے اب تک جہاں اس گروپ کے چند ارکان کو دہشتگرد قرار دیا ہے وہیں اس گروپ کو مجموعی طور پر دہشتگرد تنظیم قرار دینے سے اجتناب ہی کیا ہے۔

حقانی نیٹ ورک مشرقی افغانستان اور اس سے ملحقہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں سرگرم ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افغان طالبان اور القاعدہ کا اتحادی ہے۔

امریکی وزیرِ دفاع لیون پنیٹا نے پیر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جہاں شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کی جانب سے کارروائی کے منصوبے کا انکشاف کیا تھا وہاں یہ بھی کہا تھا کہ اس کا ہدف حقانی نیٹ ورک کی بجائے پاکستانی طالبان ہوں گے۔

امریکہ ماضی میں پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کی حمایت اور اس کی قیادت کے لیے اپنے زیرِ انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرِستان میں محفوظ پناہ گاہیں مہیا کرنے کا الزام عائد کرتا رہا ہے تاہم پاکستان شدت پسندوں کو اپنی سر زمین پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے الزام کی تردید کرتا ہے۔

دہشتگردی کے بارے میں امریکہ کی دو ہزار گیارہ کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے حقانی نیٹ ورک اور لشکرِ طیبہ کے خلاف موثر کارروائیاں نہیں کی گئیں۔

امریکی مسلح افواج کے سابق سربراہ ایڈمرل مائیک ملن نے گزشتہ برس امریکی کانگریس کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ حقانی نیٹ ورک پاکستان کے طاقتور خفیہ فوجی ادارے آئی ایس آئی کے آلۂ کار کے طور پر کام کرتا ہے۔

امریکی حکام پاکستان سے بارہا حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کرتے رہے ہیں۔

رواں برس جون میں امریکی وزیرِ دفاع لیون پنیٹا نے دورۂ افغانستان کے دوران کہا تھا اسلام آباد حقانی نیٹ ورک کے خلاف ہر صورت میں کارروائی کرے اور پاکستان میں شدت پسندوں کی مبینہ محفوظ پناہ گاہوں کے حوالے سے واشنگٹن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔