او آئی سی: شام کی رکنیت معطل کرنے پر غور

آخری وقت اشاعت:  بدھ 15 اگست 2012 ,‭ 05:09 GMT 10:09 PST

شام کی رکنیت معطل کرنے کی تجویز کی منظوری کے لیے ستاون رکنی تنظیم کے دو تہائی ارکان کی حمایت ضروری ہے۔

شام کے بحران پر غور کے لیے اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی کا اجلاس بدھ کوسعودی عرب کی میزبانی میں مکہ میں ہورہا ہے۔

امکان ہے کہ اجلاس میں شام کی او آئی سی کی رکنیت معطل کرنے پر غور ہوگا تاہم ایران نے اس تجویز کی شدید مخالفت کی ہے۔

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد اور صدر پاکستان آصف علی زرداری کے علاوہ مصری اور افغان ہم منصب محمد مرسی اور حامد کرزئی بھی اس اجلاس میں شرکت کررہے ہیں۔

شام کی رکنیت معطل کرنے کی تجویز کی منظوری کے لیے ستاون رکنی تنظیم کے دو تہائی ارکان کی حمایت ضروری ہے۔

سعودی عرب نے کھل کر شام کے باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ایران کا الزام ہے کہ سعودی عرب، قطر اور ترکی شامی صدر بشار الاسد کے مخالفین کی مالی اور عسکری مدد کررہا ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی پر دکھائے گئے مناظر میں اجلاس سے قبل سعودی شاہ عبداللہ ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کا استعبال کر رہے ہیں اور وہ آپس میں باتیں کرتے اور ہنستے ہوئے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی فوج کے جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل ڈیمسے کا کہنا ہے کہ شامی فوج کو اٹھارہ ماہ سے جاری لڑائی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

"شامی فوج کو اٹھارہ ماہ سے جاری لڑائی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ انہیں رسد کی فراہمی کے مسائل ہیں، ان میں اعتماد کمی ہو رہی ہے، انہیں اتنا ہی نقصان پہنچے گا جتنا وہ اس لڑائی کو طوالت دیں گے۔"

امریکی فوج کے جوائنٹ چیف آف سٹاف، جنرل ڈیمسے

ان کا کہنا تھا ’انہیں (شامی فوج کو) رسد کی فراہمی کے مسائل ہیں، ان میں اعتماد کمی ہو رہی ہے، انہیں اتنا ہی نقصان پہنچے گا جتنا وہ اس لڑائی کو طوالت دیں گے۔‘

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران نے شام کے شیعہ مسلمان جنگجوؤں پر مشتمل ایک ملیشیا کو تربیت دی ہے۔

شام میں سنی مسلمانوں کو سنی حکومت والی عرب ریاستوں کی حمایت حاصل ہے جن میں سعودی عرب، قطر اور ترکی شامل ہیں۔ جبکہ ایران کی شیعہ حکومت شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کرتی ہے۔

اسی نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے امریکی وزیرِ دفاع لیون پنیٹا نے کہا کہ یہ بات یقینی ہو گئی ہے کہ ایران شامی حکومت کو تربیت اور امداد فراہم کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ہمارا نہیں خیال کہ ایسے وقت میں ایران کو ایسا کردار ادا کرنا چاہیئے۔‘

’یہ شام میں ہلاکتوں میں اضافے کا سبب بن رہا ہے اور یہ شام کی اُس حکومت کو مضبوط کر رہا ہے جس کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ وہ ختم ہو رہی ہے۔‘

جنرل ڈیمسے کا کہنا تھا کہ واشنگٹن نے شام کے ہمسایہ ریاستوں اردن اور ترکی سے شام کے لڑائی زدہ علاقوں سے ہجرت کرنے والے مہاجرین کے لیے محفوظ راستوں اور سہولیات سے متعلق بات کی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حال ہی میں شام کا تباہ ہونے والا جنگی طیارہ باغیوں نے مار گرایا ہے حالانکہ شامی حکومت نے حادثہ کی وجہ تکنیکی خرابی کو قرار دیا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ شامی باغیوں کے بھاری ہتھیاروں سے لیس ہونے کے بارے میں تاحال کوئی معلومات نہیں ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔