ایکواڈور نے اسانژ کو سیاسی پناہ دے دی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 16 اگست 2012 ,‭ 13:52 GMT 18:52 PST
لندن میں ایکواڈور کا سفارتخانہ

لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے کے باہر برطانوی پولیس کے اہلکار

جنوبی امریکہ کے ملک ایکواڈور نے وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ کو سیاسی پناہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

جولین اسانژ سویڈن میں قائم ایک مقدمے میں برطانوی حکام کو مطلوب ہیں اور وہ جون سے لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

ایک روز پہلے اکواڈور کے وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ برطانیہ نے ’دھمکی‘ دی ہے کہ برطانوی حکام ان کےملک میں پناہ کے طالب جولین اسانژ کو گرفتار کرنے کے لیے ایکواڈور کے سفارتخانے میں داخل ہو سکتے ہیں۔

جولین اسانژ نے سویڈن کے حکام کے حوالے کیے جانے سے بچنے کے لیے لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے میں پناہ لی تھی۔

اسانژ کو سویڈن میں مجرمانہ جنسی حملے کے الزامات کا سامنا ہے جس سے وہ انکار کرتے ہیں۔

برطانوی دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسانژ کی سویڈن کو حوالگی برطانیہ کی قانونی ذمہ داری ہے۔

جون میں برطانیہ کی سپریم کورٹ نے اسانژ کی وہ درخواست رد کر دی تھی جس میں انہیں مبینہ جنسی جرائم پر سویڈن کے حوالے کیے جانے کے خلاف دوبارہ اپیل کرنے کو کہا گیا تھا۔ اسانژ جنسی جرائم کے ان الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

سویڈن میں حکام اسانژ سے وکی لیکس کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کرنے والی دو خواتین کی جانب سے دو ہزار دس کے وسط میں لگائے گئے جنسی زیادتی کی کوشش کے الزامات کے بارے میں تفتیش کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے ابھی تک اسانژ پر باقاعدہ طور پر کوئی فردِ جرم عائد نہیں کی ہے۔

جولین اسانژ کا کہنا ہے کہ اس جنسی عمل میں فریقین کی رضامندی شامل تھی۔

اسانژ کو خدشہ ہے کہ اگر انہیں سویڈن کے حوالے کیا گیا تو انہیں ممکنہ طور پر امریکہ بھیجا جا سکتا ہے جہاں ان پر وکی لیکس پر امریکی خفیہ دستاویزات افشاء کرنے سے متعلق الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جا سکتا ہے اور انہیں سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔