عراق: پرتشدد واقعات میں چالیس افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 17 اگست 2012 ,‭ 21:46 GMT 02:46 PST

عراق میں حالیہ مہینوں کے دوران تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے

عراق میں حکام کے مطابق سلسلہ وار پر تشدد حملوں کے نتیجے میں کم سے کم چالیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

حکام کے مطابق جمعرات کو ملک کے شمالی شہر کرکوک اور دارالحکومت بغداد کے ارد گرد متعدد بم دھماکے ہوئے۔

حکام کا کہنا ہےکہ ان حملوں میں متعدد سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔

واضح رہے کہ عراق میں حالیہ مہینوں کے دوران تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

پولیس کمانڈر بریگیڈئیر جنرل سرحد قادر نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ دارالحکومت بغداد کے شمال میں واقع شہر کرکوک میں ایک ملڑی افسر کے گھر کے قریب چار بم نصب کیے گئے تھے۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق اس حملے میں ملڑی افسر محفوظ رہے تاہم حملے میں ان کے ایک بھائی ہلاک اور خاندان کے دیگر چھ افراد زخمی ہو گئے۔

حکام کے مطابق بغداد میں ایک کار بم دھماکے میں کم سے کم سات افراد ہلاک اور تیس زخمی ہو گئے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق عراق کے شہر کرکوک میں چھ پولیس افسران اس وقت ہلاک ہو گئے جب ایک خود کش حملہ آور نے خود کو اڑا لیا۔

عراقی حکام کے مطابق عراق کے دیگر شہروں فلوجا، باقوبا، اور دبیس میں بھی حملوں کی اطلاعات ہیں۔

عراقی حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق رواں برس جولائی میں تین سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔