ناروے: پولیس سربراہ مستعفی ہو گئے

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 17 اگست 2012 ,‭ 22:52 GMT 03:52 PST

عدالت چوبیس اگست کو اس حملے سے متعلق فیصلہ سنائے گی

ناروے کے پولیس سربراہ نے انرش بہرنگ بریوک کے حملوں سے متعلق تفتیش کرنے والی سرکاری رپورٹ جس میں کہا گيا تھا کہ پولیس حملہ آور کو پکڑ سکتی تھی کے بعد اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔

گزشتہ پیر کو جاری ہونے والی تفتیشی رپورٹ میں کہا گيا تھا کہ گزشتہ برس حملے کے وقت پولیس مزید مستعدی سےکارروائی کر سکتی تھی۔

رپورٹ میں پولیس پر حملے والی جگہ جزیرہ اٹویا کے مقام پر تاخیر سے پہنچنے پر بھی تنقید کی گئی تھی۔

ناروے کے پولیس سربراہ اوئیسٹین جزیرہ اٹویا میں فائرنگ کے واقعہ سے چند دن پہلے پولیس کے سربراہ بنے تھے۔

پولیس سربراہ کے مستعفی ہونے کا اعلان جمعرات کو وزیر انصاف نے ٹی وی ڈیبیٹ کے دوران کیا۔

ناروے پولیس کے سربراہ نے مستعفی ہونے کے بعد ایک بیان میں کہا کہ وہ وزیر کے اعتماد کے بغیر اپنی نوکری جاری نہیں رکھنا چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ اگر وزارت اور دیگر سیاسی حکام اس مسئلے کو واضح طور پر حل نہیں کرتے تو اس کے لیے اپنے عہدے پر کام کرنا ناممکن ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس جولائی میں بریوک نے بم حملے اور فائرنگ کر کے ناروے میں ستتر افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

ان کے خلاف ناروے کی عدالت میں مقدمہ چلا جس میں انہوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔

عدالت چوبیس اگست کو اس حملے سے متعلق فیصلہ سنائے گی۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔