روزہ کیسے رکھیں جہاں سورج کبھی غروب ہی نہیں ہوتا

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 18 اگست 2012 ,‭ 14:50 GMT 19:50 PST

دنیا بھر میں مسلمان رمضان میں سورج کے طلوع سے لے کر غروب ہونے تک روزے رکھتے ہیں۔ لیکن ایک ایسے علاقے کے مسلمان جہاں سورج کبھی غروب ہی نہیں ہوتا روزے کیسے رکھتے ہیں؟

قصبہ رووانیامی فن لینڈ کے انتہائی مشرقی جانب سڑسٹھ ڈگری پر فنش لیپ لینڈ میں قطب شمالی سے ملتے ہوئے علاقے میں واقع ہے۔ یہ قصبہ دارالحکومت ہلسنکی سے آٹھ سو تیس کلو میٹر دور ہے۔

سردیوں کے درمیانی دنوں میں یہ قصبہ اندھیرے میں ڈوبا ہوتا ہے لیکن گرمیوں میں سورج کی روشنی میں نہایا رہتا ہے۔

سورج کی روشنی کی وجہ سے ایک لمبا دن شاہ جلال میاہ مسعود جیسے مسلمانوں کے لیے خاص مشکل پیدا کرتا ہے جو اس قصبے کے رہائشی ہیں۔

اٹھائیس سالہ مسعود قصبے رووانیامی میں پانچ سال پہلے بنگلہ دیش سے آئی ٹی کی تعلیم کے حصول کی خاطر آئے تھے۔

مسعود کا کہنا ہے ’یہاں اندھیرا نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ ایک جیسا ہی لگتا ہے اور سورج ہمیشہ افق پر موجود رہتا ہے۔ یہ طے کرنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے کہ اس لمحے وقت کیا ہوا ہے۔‘

اس وقت رات کے گیارہ بج رہے ہیں لیکن سورج افق سے تھوڑا سا نیچے ہوا ہے۔ آسمان ایک خوب گہرے نیلے رنگ کا ہو گیا ہے اور یہ یہاں پر تاریکی کے لمحات ہیں کیونکہ اس کے پانچ گھنٹے بعد سورج پھر نمودار ہو جائے گا۔

"’یہاں اندھیرا نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ ایک جیسا ہی لگتا ہے اور سورج ہمیشہ افق پر موجود رہتا ہے اور یہ طے کرنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے کہ اس لمحے وقت کیا ہوا ہے‘۔"

مسعود شاہ جلال بنگلہ دیشی طالب علم

مسعود کا کہنا ہے کہ فن لینڈ کے وقت کے مطابق روزے رکھنا بہت مشکل ہے اور وہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ تھک چکے ہیں۔ وہ ہنستے ہوئے بتاتے ہیں کہ انہوں نے اکیس گھنٹے سے کچھ نہیں کھایا۔

لیکن لمبے روزوں کے باوجود ان کا کہنا ہے کہ لمبے دنوں میں روزے رکھنا ایک خوش نصیبی بھی ہے۔

اس کی ایک دوسری صورت بھی ہے جو روزے کے لمبے اوقات کو کم کر دیتی ہے اور وہ یہ ہے کہ روزے کے دورانیے کی نشاندہی فن لینڈ کے جنوب میں کسی ملک میں سورج کی غروب اور طلوع کے وقت کے ساتھ کر لی جائے۔

ڈاکٹر عبدالمنان جو کہ ایک مقامی امام اور شمالی فن لینڈ کی اسلام سوسائٹی کے صدر بھی ہیں کا کہنا ہے کہ اس بارے میں دو مکتبۂ فکر ہیں۔

’مصری علماء کا کہنا ہے کہ اگر دن اٹھارہ گھنٹے سے زیادہ لمبا ہے تو آپ مکہ یا مدینہ کے وقت کی پیروی کرتے ہیں یا کسی قریبی مسلم ملک کی۔ دوسرا نقطۂ نظر سعودی علماء کا ہے جو کہتے ہیں کہ دن جیسا مرضی ہو لمبا ہو یا چھوٹا ہو آپ کو مقامی وقت کی پابندی کرنی چاہیے۔‘

نفیسہ یاسمین مکہ کے اوقات کی پیروی کرتی ہیں۔ ڈاکٹر منان کا کہنا ہے کہ شمالی فن لینڈ میں مسلمانوں کی اکثریت مکہ کے یا فن لینڈ کے قریب ترین مسلمان ملک ترکی کے اوقات کی پیروی کرتی ہے۔

"مصری علماء کا کہنا ہے کہ اگر دن اٹھارہ گھنٹے سے زیادہ لمبا ہے تو آپ مکہ یا مدینہ کے وقت کی پیروی کرتے ہیں یا کسی قریبی مسلم ملک کی۔ دوسرا نقطۂ نظر سعودی علماء کا ہے جو کہتے ہیں کہ دن جیسا مرضی ہو لمبا ہو یا چھوٹا ہو آپ کو مقامی وقت کی پابندی کرنی چاہیے۔"

ڈاکٹر عبدالمنان

نفیسہ جو کہ لیپ لینڈ یونیورسٹی میں تحقیق کر رہی ہیں کے لیے روزے کے اوقات کا تعین کرنا آسان کام نہیں تھا۔ وہ ڈھاکہ سے چھ سال پہلے اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ یہاں منتقل ہوئی تھیں۔

نفیسہ اپنا روایتی افتار کا کھانا تیار کر رہی ہیں اور وہ رووانیامی میں اپنا پہلا رمضان یاد کر رہیں تھیں۔ انہوں نے فن لینڈ کے اوقات کے مطابق روزے رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ان دنوں وہ بغیر کھائے پیے بیس بیس گھنٹے کا دن گزارا کرتی تھیں۔

انہوں نے بتایا ’ایسا کرنا بہت مشکل تھا کیونکہ ہم بنگلہ دیش میں بارہ گھنٹے کا دن اور بارہ گھنٹے کی رات کے عادی تھے۔ پھر میں نے سوچا کہ میں مزید ایسا نہیں کر سکتی اور مجھے مکہ کے اوقات کی پیروی کرنی پڑے گی۔ لیکن میں کچھ پریشان ہوں کہ کہیں اللہ اسے قبول کریں گے یا نہیں۔‘

فن لینڈ میں بہت سارے مسلمان دنیا کے مختلف ممالک سے پناہ گزینوں کے طور پر آئے تھے اور خاص طور پر صومالیہ، عراق اور افغانستان سے۔ دو ہزار ایک سے فن لینڈ نے ساڑھے سات سو پناہ گزین قبول کیے ہیں۔ ان نئے آنے والوں کو عموماً ملک کے شمال میں واقع دور دراز کی رووانیامی کی طرح کی آبادیوں میں حکومت کی جانب سے آبادگاری منصوبوں کے تحت بھجوایا جاتا ہے۔

"ایسا کرنا بہت مشکل تھا کیونکہ ہم بنگلہ دیش میں بارہ گھنٹے کا دن اور بارہ گھنٹے کی رات کے عادی تھے۔ پھر میں نے سوچا کہ میں مزید ایسا نہیں کر سکتی اور مجھے مکہ کے اوقات کی پیروی کرنی پڑے گی۔ لیکن میں کچھ پریشان ہوں کہ کہیں اللہ اسے قبول کریں گے یا نہیں۔"

نفیسہ

رووانیامی میں لمبے روزے ہی صرف ایک مسئلہ نہیں ہیں جو روزہ دار مسلمانوں کو درپیش ہے۔ قصبے کی کوئی دکان حلال گوشت فروخت نہیں کرتی جو کہ اسلامی طریقے سے تیار کیا گیا ہو۔

رووانیامی کے قریب ترین قصبہ اؤلو ہے جو کہ تین سو کلومیٹر کے دوری پر ہے یا دوسری صورت لوولیو ہے جو کہ سرحد کے دوسری طرف سویڈن میں واقع ہے۔

نفیسہ نے لوولیو کو چنا ہوا ہے جہاں وہ ایک لمبی خریداری کی فہرست کے ساتھ چھ گھنٹے سفر کرکے جاتی ہیں۔ ان کی فہرست میں کالے چنے، کھجوریں، چاول، چاول سے بنے پاپڑ اور بہت سارا حلال گوشت ہوتا ہے۔

ظاہر ہے انہوں نے رمضان کی تیاری کے سلسلے میں پہلے سے تیاری کرتے ہوئے بہت کچھ ذخیرہ کر لیا تھا۔ یہ دکھانے کے لیے وہ اپنا بہت بڑا سفید فرج کھول کر دکھاتی ہیں جس پر ان کے بچوں کے سکول کی تصاویر لگی ہیں اور جس میں سات کی سات ٹرے جمے ہوئے حلال گوشت سے بھرے دکھائی دے رہی تھیں۔

نفیسہ اور مسعود دونوں قطب شمالی میں اپنی زندگی سے خوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی لوگ بہت ملنسار ہیں اور ان کے مذہب کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک بڑے مذہبی تہوار پر خاندان، دوستوں اور گھر بار سے دور بہت مشکل ہوتا ہے۔

مسعود کا کہنا تھا کہ ’ہم روزہ اکٹھے افطار کیا کرتے تھے مگر اب یہاں میں اکیلا افطار کرتا ہوں۔ یہاں زندگی عمومی ہے اور کوئی تہوار کا احساس نہیں ہوتا بلکہ میں محسوس کرتا ہوں کہ کچھ کمی ہے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔