شام: اقوام متحدہ کے امن مشن کا باقاعدہ خاتمہ

آخری وقت اشاعت:  پير 20 اگست 2012 ,‭ 23:58 GMT 04:58 PST

شام میں جاری تشدد میں خاتمے میں ناکامی پر اقوام متحدہ نے امن مشن کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے شام میں امن مشن کے خاتمے کے اعلان کے بعد شام میں امن مشن کا باقاعدہ خاتمہ ہو گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعرات کو شام میں اپنے مبصرین پر مشتمل امن مشن کی مدت پوری ہونے سے پہلے اس کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے امن مشن کو شام میں حکومتی اور باغیوں افواج کے درمیان فائربندی کا جائزہ لینے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

شام میں جاری تشدد میں خاتمے میں ناکامی پر اقوام متحدہ نے امن مشن کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے سابق مشترکہ ایلچی کوفی عنان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے شام کے مسئلے پر عدم اتفاق کی وجہ سے امن مشن کے سربراہ کی حیثیت سے استعفی دے دیا تھا۔

"بہت سے افراد کا یہ کہنا ہے کہ ہمیں شام میں خانہ جنگی سے بچنا چاہیے تاہم مجھے یقین ہے کہ وہاں پہلے ہی خانہ جنگی جاری ہے اور اسے روکنا آسان نہیں ہے۔"

لخدار براہیمی

شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے نئے مشترکہ ایلچی لخدار براہیمی نے اتوار کو کہا کہ ان کا اولین ہدف شام میں تشدد کا خاتمہ ہے۔

لخدار براہیمی نے فرانس کے ٹیلی ویثرن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا بہت سے افراد کا یہ کہنا ہے کہ ہمیں شام میں خانہ جنگی سے بچنا چاہیے تاہم مجھے یقین ہے کہ وہاں پہلے ہی خانہ جنگی جاری ہے اور اسے روکنا آسان نہیں ہے۔

اس سے پہلے بین الاقوامی برادری نے الجیریا سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار سفارت کار لخدار براہیمی کی شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کا مشترکہ ایلچی کی تقرری کو خوش آئند قرار دیا تھا۔

دوسری جانب دمشق کے حکام نے بھی لخدار براہیمی کو اپنے تعاون کا یقین دلایا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے لخدار براہیمی کی تعیناتی کا خیر مقدم کیا ہے۔

بان کی مون کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ لخدار براہیمی شام میں جاری تشدد کو ختم کروانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

لخدار براہیمی اس سے پہلے افغانستان اور عراق میں بھی اقوام محتدہ کے سیفر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔

شام میں حزب مخالف ارکان کے مطابق صدر بشارالاسد کے خلاف گزشتہ سال مارچ سے شروع ہونےوالے مظاہروں میں ایک اندازے کے مطابق اب تک بیس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ ہزّاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔