یمن: انٹیلجنس عمارت پر حملہ، چودہ ہلاک

آخری وقت اشاعت:  اتوار 19 اگست 2012 ,‭ 07:47 GMT 12:47 PST

ایک سکیورٹی اہلکار نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ حملہ آوروں کی یہ کارروائی بظاہر منصوبہ بندی کے تحت کی گئی

یمن کے سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی شہر عدن میں دہشت گردوں نے انٹیلیجنس کے ایک مقامی صدر دفتر پر حملہ کر کے چودہ افراد کو ہلاک کردیا ہے۔

دہشت گردوں نے عمارت پر دو اطراف سے راکٹ پروپلڈ گرنیڈ اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔

اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سے کم از کم گیارہ فوجی اہلکار تھے اور اس ہیڈ کوارٹر کے قریب ریاستی ٹی وی کے دفتر کے تین اہلکار بھی اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔

حملہ آور کارروائی کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ یاد رہے کہ دو سال پہلے بھی القاعدہ نے اسی عمارت پر حملہ کیا تھا۔

رواں سال صدر عبداللہ صالح علی کی برطرفی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گردوں نے عدن پر قبضہ کر لیا تھا لیکن حکومت نے اس شہر کا کنٹرول واپس لینے میں کامیاب ہوگئی۔

اس کے علاوہ ملک کے جنوب اور مشرق میں بھی دہشت گردوں نے کئی علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ تاہم حال ہی میں امریکی حمایت کے ساتھ دو ماہ طویل فوجی آپریشن کے ذریعے حکومت نے جنوبی صوبے ابیان میں دہشت گردوں کے زیرِ انتظام کئی اہم قصبوں پر قابو پا لیا ہے مگر بیشتر مسلح گروہوں نے قریبی پہاڑی علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

ایک سکیورٹی اہلکار نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ حملہ آوروں کی یہ کارروائی بظاہر منصوبہ بندی کے تحت کی گئی۔ اہلکار کا ماننا تھا کہ حملہ آوروں کا تعلق القاعدہ سے تھا۔

چند ہفتے قبل مشتبہ القاعدہ ارکان نے جار کے شہر میں ایک جنازے پر خود کش حملہ کر کے پینتالس افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

مئی میں دارالحکومت صنعاء میں ایک فوجی پریڈ پر خود کش حملے میں نوے افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔