شام کیمیائی ہتھیار استعمال نہ کرے: اوباما

آخری وقت اشاعت:  منگل 21 اگست 2012 ,‭ 22:18 GMT 03:18 PST

شام دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے جس کے پاس کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ ہے

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ شام کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال امریکہ کے لیے ’ریڈ لائن‘ ہو گا جس کے بعد امریکہ کی شام کے بحران میں مداخلت نہ کرنے کی پالیسی تبدیل ہو جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے شام پر فوجی مداخلت کا حکم نہیں دیا تاہم شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے برے نتائج برآمد ہوں گے۔

پیر کو وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیب یا ان کا استعمال خطے میں جاری بحران کو مذید وسیع کر دے گا۔

"شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیب یا ان کا استعمال خطے میں جاری بحران کو مذید وسیع کر دے گا۔"

براک اوباما نے کہا کہ کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے سے صرف شام ہی متاثر نہیں ہو گا بلکہ اس سے خطے میں موجود اسرائیل سمیت ہمارے اتحادی بھی متاثر ہوں گے جس پر انہیں تشویش ہے۔

انہوں نے شام کے صدر بشار الاسد کو متنبہ کیا کہ وہ کیمیائی ہتھیار استعمال نہ کریں۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی نقل و حرکت دیکھی تو یہ ہمارے لیے ’ریڈ لائن‘ ہو گی۔

واضح رہے کہ شام دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے جس کے پاس کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ ہے۔

گزشتہ ماہ شام کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ شام میں کبھی بھی کیمیائی ہتھیار تنصیب نہیں کیے جائیں گے۔

واشنگٹن میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکی غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق شامی حکام کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کی نقل و حرکت کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے پیر کو شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے نئے مشترکہ ایلچی لخدار براہیمی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ شام کے صدر بشار الاسد کی جانب سے اقتدار چھوڑنے کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔

"میں ابھی اس پوزیشن میں نہیں ہوں کیونکہ شام کے سفیر کے طور پر میری تعیناتی کچھ دن قبل ہوئی ہے۔ میں اس حیثیت میں پہلی بار نیو یارک جا رہا ہوں جہاں میں ان افراد سے ملوں گا جس کے ساتھ مجھے کام کرنا ہے اور اس کے بعد میں قاہرہ میں عرب لیگ کے رہنماؤں سے ملاقات کروں گا"

شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی لخدار براہیمی

الجیریا کے سابق وزیر خارجہ لخدار براہیمی نے گزشتہ ہفتے شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے سابق ایلچی کوفی عنان کی جگہ لی تھی۔

لخدار براہیمی نے پیر کو بی بی سی کو بتایا کہ وہ ابھی یہ بات کہنے کے لیے تیار نہیں کہ شامی صدر بشارالاسد کو اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا ’میں ابھی اس پوزیشن میں نہیں ہوں کیونکہ شام کے سفیر کے طور پر میری تعیناتی کچھ دن قبل ہوئی ہے۔ میں اس حیثیت میں پہلی بار نیو یارک جا رہا ہوں جہاں میں ان افراد سے ملوں گا جس کے ساتھ مجھے کام کرنا ہے اور اس کے بعد میں قاہرہ میں عرب لیگ کے رہنماؤں سے ملاقات کروں گا۔‘

دوسری جانب خبر رساں ایجنسی اے پی نے ایک کارکن محمد سعید کے حوالے سے بتایا کہ شام میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور پیر کو شام کے شمالی شہر حلب میں حکومتی فوج نے ٹینکوں اور جہازوں کی مدد سے بمباری کی جس کے نتیجے میں کم سے کم چودہ افراد ہلاک ہو گئے اور مکانات کو نقصان پہنچا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعرات کو شام میں اپنے مبصرین پر مشتمل امن مشن کی مدت پوری ہونے سے پہلے اس کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے مطابق شام کے صدر بشارالاسد کے خلاف جاری مظاہروں میں اب تک اٹھارہ ہزار افراد ہلاک جبکہ ایک لاکھ ستر ہزار بے گھر ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔