ایتھوپیا کے وزیرِ اعظم میلے زناوی انتقال کر گئے

آخری وقت اشاعت:  منگل 21 اگست 2012 ,‭ 14:04 GMT 19:04 PST
میلے زناوی

میلے زناوی اقتدار میں آنے سے پہلے باغی رہنما تھے

ایتھوپیا میں حکام کے مطابق وزیرِ اعظم میلے زناوی ستاون سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔

اگرچہ حکومت نے اس کی کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے لیکن یورپی یونین کے ایک ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ وزیرِ اعظم میلے زناوی کا انتقال بیلجیئم کے شہر برسلز میں ہوا۔

ایتھوپیا کے سرکاری ٹی وی پر اعلان کیا گیا کہ ’وزرا کی کونسل بڑے دکھ کے ساتھ وزیرِ اعظم میلے زناوی کی غیر متوقع موت کا اعلان کرتی ہے۔‘

وزیرِ اعظم میلے کچھ ہفتوں سے نہیں دیکھے گئے تھے اور گزشتہ ماہ ان کی صحت کے متعلق افواہیں اس وقت مزید بڑھ گئیں جب انہوں نے ادیس ابابا میں ہونے والے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

میلے زناوی نے 1991 میں کمیونسٹ رہنما مینجسٹو ہیلے مریم کی حکومت کا تختہ الٹ کر بطور باغی رہنما اقتدار حاصل کیا تھا۔

ان کے اقتدار میں ایتھوپیا میں اقتصادی ترقی شروع ہوئی لیکن ان کے ناقدین کے خیال میں یہ ترقی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی قیمت پر ہوئی۔

بی بی سی کی ادیس ابابا میں سابق نامہ نگار ایلیزبتھ بلنٹ کے مطابق میلے بہت محنتی اور سادہ انسان تھے اور گوریلا تحریک میں کئی سال گزارنے کی وجہ سے ان میں ایک ڈسپلن تھا اور شاید انہیں کبھی مسکراتے ہوئے بھی نہیں دیکھا گیا تھا۔

لائبیریا کے صدر ایلن جانسن کا کہنا ہے کہ میلے براعظم کے دانشور رہنما تھے۔ برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے میلے کو افریقہ کا ایک مثالی ترجمان کہا جنہوں نے ’لاکھوں (افراد) کو غربت سے نکالا ہے۔‘

لیکن صومالیہ کی اسلامی ملیشیا تنظیم الشباب کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ انہیں میلے زناوی کی موت کی بہت خوشی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایتھوپیا اب یقینی طور پر تباہ ہو جائے گا۔

یاد رہے کہ میلے زناوی نے الشباب کے شدت پسندوں کے خلاف لڑائی کے لیے دو مرتبہ فوجی بھیجے تھے۔

سرکاری اعلان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم گزشتہ دو مہینوں سے ملک سے باہر علاج کروا رہے تھے اور ان کی صحت بہتر ہو رہی تھی، لیکن اتوار کو اچانک انفیکشن کی وجہ سے انہیں ہنگامی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا لیکن ڈاکٹروں کی انتھک کوششوں کے باجود وہ سوموار کو انتقال کر گئے۔

ایتھوپیا کے نائب وزیرِ اعظم ہائیلو میریم دیسالن جو کہ ملک کے وزیرِ خارجہ بھی ہیں اب ایتھوپیا کے عبوری سربراہ ہوں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔