سری لنکا: تیرہ حکومتی یونیورسٹیاں بند

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 23 اگست 2012 ,‭ 01:50 GMT 06:50 PST

اساتذہ کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کو سیاست میں ملوث کرنے کو روکنا ہوگا

سری لنکا کی حکومت نے ملک کی تقریباً تمام یونیورسٹیوں کو غیر متعین مدت کے لیے بند کر دیا ہے۔

گزشتہ دو ماہ سے یونیورسٹیوں کےبہت سے اہلاکار حکومتی مداخلت کے خلاف اور تعلیمی اداروں کی مالی امداد بڑھانے کے مطالبات کے لیے ہڑتال پر تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اساتذہ طالبِ علموں کو ’بے امید تاریکی‘ میں دھکیل رہے ہیں۔

سری لنکا میں اعلی تعلیمی ادارے کئی دہائیوں سے کشیدگے کا مرکز رہے ہیں۔

ستر اور اسی کی دہائیوں میں طلبا کے مسائل نے تامل بغاوت کو پروان چھڑہانے میں مدد دی تھی۔

اس سال جولائی سے اساتذہ اور یونیورسٹیوں کے دیگر اہلکار ہڑتال پر ہیں۔ وہ تعلیمی اداروں کو جزوی طور پر پرائیوٹائز (نجی بنانے) کی حکومتی منصوبہ بندی کے خلاف ہیں۔

سری لنکا میں تعلیمی ادارے ہمیشہ سے حکومتی سرپرستی میں رہے ہیں اور مفت تعلیم مہیا کرتے رہے ہیں۔

ان کے مطالبات میں اداروں میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ اور تنخواہوں میں اضافہ ہے۔

حکومت نے دو ماہ لمبی ہڑتال کے جواب میں پندرہ حکومتی یونیورسٹیوں میں سے تیرہ کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا ہے تاہم ان اداروں کے طبی شعباجات کام کر رہے ہیں۔

حکومت نے ہڑتالیوں پر حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

وزیرِ تعلیم ایس بی دسانیک کا کہنا تھا ’ان کا مقصد سیاسی بحران بنانا ہے جس سے حکومت تبدیل ہو جائے۔‘

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی اساتذہ کے چھ میں سے پانچ مطالبات منظور کر چکی ہے تاہم اساتذہ کی یونین ماہم مینڈز نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بات درست نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں کو سیاست میں ملوث کرنے کے کو روکنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت وزرا اپنے پسندیدہ لوگوں کو ان اداروں میں اہم عہدوں پر فائض کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت گرانے کی کوششوں کا الزام بے بنیاد ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔