کسان نے سانپ کو کاٹ کر مار ڈالا

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 23 اگست 2012 ,‭ 15:45 GMT 20:45 PST
کسان نے کوبرا کو کاٹ کر مار ڈالا

نیپالی کسان اپنے شکار کی لاش دکھا رہے ہیں

ایک نیپالی کسان نے دھان کے کھیت میں ایک کوبرا سانپ کو کاٹ کاٹ کر ہلاک کر ڈالا۔ کسان نے یہ کارروائی سانپ سے بدلہ لینے کے لیے کی جس نے پہلے اسے کاٹا تھا۔

محمد سلم الدین نے بی بی سی کو بتایا ’مجھے ایک سپیرے نے کہا تھا کہ اگر تمہیں کوئی سانپ کاٹے اور تم اسے جواباً کاٹ کر ہلاک کر دو تو تمہیں کچھ نہیں ہو گا۔‘

سلم الدین کو اب ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے جہاں ان کا سانپ کے کاٹے کا علاج کیا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان پر کوئی مقدمہ نہیں چلایا جائے گا کیونکہ اس سانپ کی نسل معدومی کے خطرے سے دوچار نہیں ہے۔

سلمالدین نے بی بی سی نیپالی کے بکرم نرولا کو بتایا کہ ’جب مجھے احساس ہوا کہ مجھے سانپ نے کاٹا ہے تو میں پھرگھر سے ٹارچ لے آیا اور میں نے دیکھا کہ یہ تو کوبرا ہے۔ چنانچہ میں نے اسے کاٹ کاٹ کر مار ڈالا۔‘

"مجھے ایک سپیرے نے کہا تھا کہ اگر تمہیں کوئی سانپ کاٹے اور تم اسے جواباً کاٹ کر ہلاک کر دو تو تمہیں کچھ نہیں ہو گا۔"

انہوں نے کہا کہ سانپ کو مارنے کے بعد وہ معمول کی زندگی میں یوں مشغول ہو گئے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ آخر کار انہیں اپنے خاندان، پڑوسیوں اور پولیس کے مجبور کرنے پر ہسپتال جانا پڑا۔

یہ واقعہ منگل کے روز نیپال کے دارالحکومت کاٹھمنڈو سے دو سو کلومیٹر دور ایک گاؤں میں پیش آیا۔

نیپال میں کئ انواع و اقسام کے سانپ پائے جاتے ہیں، جن میں سے کچھ زہریلے ہیں۔ کوبرا کا شمار بھی زہریلے سانپوں میں ہوتا ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نیپال میں ہر سال ایک ہزار کے لگ بھگ لوگ سانپوں کے کاٹنے سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔