انرش بہرنگ’ذہنی طور پر صحت مند‘، اکیس برس کی سزا

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 24 اگست 2012 ,‭ 08:56 GMT 13:56 PST
انرش بہرنگ

انرش بہرنگ سے ستتر افراد کے قتل کا جرم قبول کیا تھا

ناروے کی ایک عدالت نے گزشتہ برس ستتر افراد کا قتل عام کرنے والے دائیں بازوں کے شدت پسند انرش بہرنگ بریوک کو ذہنی طور پر صحت مند قرار دیتے ہوئے اکیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔

گزشتہ برس جولائی میں بریوک نے بم حملے اور فائرنگ کر کے ناروے میں ستتر افراد کو ہلاک اور دو سو چالیس کو زخمی کر دیا تھا۔

مقدمے کی سماعت کے موقع پر بریوک کہہ چکے ہیں کہ وہ ذہنی طور پر بالکل صحت مند ہیں۔

واضح رہے کہ سرکاری وکلاء نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ بریوک کو ذہنی طور پر بیمار قرار دیا جائے۔

تاہم بریوک نے کہا ہے کہ وہ عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج نہیں کریں گے جس کے تحت انہیں ذہنی طور پر صحت مند قرار دیا گیا ہے۔

گزشتہ سال اوسلو کے شمال میں جزیرے اوٹویا میں حکمران جماعت لیبر پارٹی سے وابستہ نوجوانوں کے ایک تربیتی کیمپ میں فائرنگ کے نتیجے میں ستر سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

جمعرات کو فیصلہ سنائے جانے سے پہلے اوسلو کی ذیلی عدالت کے باہر سخت سیکورٹی کے انتظامات کیے گئے تھے۔

دس ہفتے تک چلنے والی اس عدالتی کارروائی کے دوران بریوک کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کے لواحقین اور عینی شاہدین کی بیانات درج کیے گئے۔

واضح رہے کہ بریوک نے اپنے کیے پر کبھی بھی پچھتاوے کا اظہار نہیں کیا ہے۔

انہوں نے عدالت میں دیے گئے حلفیہ بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے کوئی’دہشت گردی‘ نہیں کی اور انہوں نے جو کیا وہ اسلام اور کثیر الثقافت سوچ کے خلاف ایک صليبي جنگ کا حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ چھوٹا وحشیانہ فعل ایک بڑے وحشیانہ فعل سے بچاؤ کے لیے تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔