ساحل پر ممنکہ تیل آلودگی کی صفائی کی تیاری

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 25 اگست 2012 ,‭ 02:02 GMT 07:02 PST

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق نیگومبو کے ساحل پر پہلے ہی ایک چھوٹی سی دھار (دو سو میٹر طویل) پہنچ چکی ہے

سری لنکا میں حکام کے مطابق فوج، ملک کے قریب ڈوبنے والے کارگو بحری جہاز سے رسنے والے تیل کے مغربی ساحل تک پہنچے کے امکان کے پیشِ نظر ممکنہ آلودگی کی صفائی کی تیاری کر رہی ہے۔

نیگومبو کے سیاحتی شہر کے ساحلوں پر پہلے ہی تیل نظر آنے لگا ہے اور مچھلیوں اور دیگر سمندر صنعتوں کو خطرہ لاحق ہے۔

جمعرات کو خراب موسم کی وجہ سے سائیپریس کا بحری جہاز تھرموپائل سیئرا ڈوب گیا تھا جس کے بعد سمندر میں دس کلومیٹر لمبی تیل کی دھاری دیکھی گئی۔

یہ جہاز تین سال سے جاری کارگو تناڑعات کی وجہ سے ملک کے مغربی ساحل کے قریب کھڑا تھا۔

سری لنکا میں قدرت آفات سے نمٹنے والے ادارے ’ڈزاسٹر مینجمنٹ سنٹر‘ کا کہنا ہے کہ مغربی ساحل کے قریب سمندر میں دس کلومیٹر لمبی تیل کی دھار سے دارالحکومت سمیت لاوینیا پہاڑی اور نیگومبو کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

نیگومبوسری لنکا کا پہلا ساحلی مقام ہے جسے انیس سو ستر میں سیاحت کے لیے کھولا گیا تھا۔

ادارے کے ڈائریکٹر سراتھ کمارا نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ جہاز میں سے زیادہ تر تیل نکالا جا چکا تھا اور ہماری اطلاعات کے مطابق صرف ستر ٹن ایندھن جہاز پر موجود تھا جس کی وجہ سے تیل کی دھار دیکھنے کو مل رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا بکہ یہ دھار مغربی ساحل سے تقریباً بیس کلومیٹر دور ہے مگر موسون کی بارشوں میں ممکنہ شدت سے ساحل تک پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پچاس کلومیٹر لمبی ساحلی پٹی کی صفائی کے لیے رضا کاروں کے یونٹ بنا رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں ایسی کسی چیز کا تجربہ نہیں ہے۔‘

کولمبو میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار چارلز ہیویلنڈ کا کہنا ہے کہ نیگومبو کے ساحل پر پہلے ہی ایک چھوٹی سی دھار (دو سو میٹر طویل) پہنچ چکی ہے۔

یہ زنگ آلودہ جہاز سٹیل کے پائپ بطور کارگو لے جا رہا تھا جس کے نتیجے میں سری لنکا کی ایک عدالت نے اس روک دیا تھا۔ حال ہی میں ایک اور عدالتی فیصلے نے جہاز کو مشرقی ساحل پر منتقل کرنے سے بھی روک دیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔