سگریٹ پیکٹوں پر تنبیہی تصاویر ضروری نہیں

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 25 اگست 2012 ,‭ 02:02 GMT 07:02 PST

دیگر ممالک کی طرح امریکہ نے بھی سگریٹ کے پیکٹوں پر تصاویری تنبیہ کو ضروری بنانے کی کوشش کی تھی

امریکہ میں ایک عدالت نے سگریٹ کے پیکٹوں پر تصویری تنبیہ لازمی کرنے کے حکومتی احکام کو منسوخ کر دیا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے سگریٹ نوشوں کو زبر دستی سگریٹ چھڑوانے کی کوشش کی۔

دیگر ممالک کی طرح امریکہ نے بھی سگریٹ کے پیکٹوں پر تصاویری تنبیہ کو ضروری بنانے کی کوشش کی تھی۔ یہ قانون بائیس ستمبر سے لاگو ہونا تھا۔

ان تصاویر میں ایک ایسے شخص کی تصویر ہے جو کہ گلے میں لگائی گئی ایک مصنوعی نالی سے سانس لے رہا ہے اور ایک اور تصویر میں ایک مردہ شخص کی چھاتی پر پوسٹ مارٹم کے بعد نشانات دیکھائے گئے ہیں۔

واشنگٹن میں اپیلز عدالت کا کہنا تھا کہ البتہ یہ تصاویر غلط نہیں ہیں تاہم یہ صارفین کو معلومات دینے سے کچھ زیادہ ہی کر رہی ہیں۔

سابق صدر بش کے تعینات کردہ جج جینس راجر براؤن کا کہنا تھا کہ یہ تصاویر جذبات اجاگر کرنے اور شاید شرمندہ کرنے اور صارفین سے زبر دستی سگریٹ چھڑوانے کی کوششیں ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اشیائے خورد و نوش اور ادویات کی نگران تنظیم فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے اس بات کے کوئی شواہد نہیں پیش کیے کہ ان تصاویر سے براہِ راست شگریٹ نوش کرنے والوں کی تعداد میں کمی آتی ہے۔

سگریٹ بنانے والی کمپنیوں نے حکومت کے خلاف مقدمہ کیا تھا کہ یہ تصاویر امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے منافی ہے جس میں ہر کسی کو آزادیِ رائے کا حق دیا گیا ہے۔

جج براؤن کا کہنا تھا کہ حکومت یہ قانون ضرور بنا سکتی ہے کہ صارفین کو اشیا کے استعمال کے تمام تر نقصانات سے آگاہ کیا جائے تاہم اس موقع پر ایسے سوالات اٹھتے ہیں کہ کیا حکومت کے پاس یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی مصنوعات بنانے والے کو اپنے مالی فوائد کے منافی حقائق سے بعید معلومات فراہم کرنے پر مجبور کرئے۔

جمعے کے روز آنے والے اس فیصلے سے پہلے تمباکو کی عالمی کمپنیوں نے آسٹریلیا میں ایک ایسا ہی مقدمہ ہارا تھا۔

تمباکو کی مصنوعات پر تصویری تنبیہ کو لازمی قرار دینے والے دیگر ممالک میں برازیل، برطانیہ، کینیڈا، بھارت، ایران، مکسیکو، نیوزی لینڈ، سنگا پور، پاکستان، تائی وان اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔

اس مقدمے میں پانچ تمباکو کی کمپنیوں میں سے ایک کے آر جے رینلڈز کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور صارفین کو امریکی آئین کے تحت ہی تمباکو کے استعمال کے نقصانات سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔

ادھر گیلپ کے ایک حالیہ سروے کے مطابق بیس فیصد امریکیوں نے گزشتہ ہفتے ہیں سگریٹ پینے کا اعتراف کیا جو کہ اس شرح کی کم ترین سطح ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔