لیبیا: صوفی مزار مسمار کر دیا گیا

آخری وقت اشاعت:  اتوار 26 اگست 2012 ,‭ 01:06 GMT 06:06 PST

قذافی حکومت کے گرنے کے بعد سے مختلف مسلمان فرقوں کے مزاروں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے

سنیچر کو لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں حملے آوروں نے ایک مسلمان صوفی کے مزار کو مسمار کر دیا ہے۔ اس سے ایک روز قبل بھی لیبیا میں ایک ایسے ہی مزار اور لائبریری کو گرا دیا گیا تھا۔

ابتدائی اطلاعات میں یہ واضح نہیں کہ اس حملے کا ذمہ دار کون ہے تاہم گزشتہ چند ماہ میں گرایا جانے والا یہ تیسرا مزار ہے۔ ماضی میں حکام نے ان اقدامات کی ذمہ داری ان گروہوں پر عائد کی تھی جو کہ مذہبی شدت پسندی میں یقین رکھتے ہیں۔

لیبیا ایک انتہائی قدامت پسند اسلامی ملک ہے اور سابق حکمران معمر قذافی کے دور میں مذہبی شدت پسندی کو دبایا گیا تھا۔ قذافی حکومت کے گرنے کے بعد سے مختلف مسلمان فرقوں کے مزاروں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

مزاروں کے خلاف اس مہم کا بظاہر نشانہ صوفی مزار ہیں جہاں مبینہ طور پر زائرین آ کر ان شخصیات سے دعائیں مانگتے ہیں۔ سلافی فقہ اس طرح کی عبادت کو ممنوع مانتے ہیں اور قبروں کی عبادت کو بت پرستی سے تشبیہ دیتے ہیں۔

لیبیا کے مفتیِ اعظم شیخ سدیق الغاریانی نے اس حملے کی مذمت کی اور کہا کہ مزاروں کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت کے علاوہ کسی بھی گروہ کو ہتھیار استعمال نہیں کرنے چاہیئیں اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ فرقہ واریت کو روکے۔

علاقے کے ایک رہائشی عبداللہ زکریا کا کہنا تھا کہ انہوں نے سنیچر کی صبح بلڈوزروں کی مدد سے مزار کو گرایا جانا دیکھا۔ چند ہی گھنٹوں بعد ایک قریبی مسجد کو بھی گرایا گیا جس میں بھی مزار موجود تھے۔

سکیورٹی حکام نے مزار کو جانے والا راستہ بند کر دیا تاہم مزار کو گرائے جانے کے عمل کو نہیں روکا۔ ادھر دوسری جانب پولیس ایک قریبی ہوٹل کی حفاظت پت تعینات نظر آئی۔

خانہ جنگی کے بعد سے لیبیا میں مرکزی فوج یا پولیس کا نظام باقی نہیں رہا اور ملک میں حکومتی اداروں کا تحفظ مختلف مسلح گروہوں نے کیا ہے۔

لیبیا سے تعلق رکھنے والے اور ایک مصنف فاتیح بن عیسا کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ پولیس اس بات کی تفتیش کرئے گی کہ اس مزار کو مسمار کرنے کا حکم کس نے دیا اور اس بات کا جواب دیا جائے کہ سکیورٹی حکام نے اپنی نظروں کے سامنے ایسا کیوں ہونے دیا۔

ایک سیکورٹی اہکار کا کہنا تھا کہ پولیس کو احکامات دیے گئے تھے کہ فسادات بڑھنے نہ دیا جائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔