’شام کا بحران، پورے خطے کے خلاف سازش ہے‘

آخری وقت اشاعت:  پير 27 اگست 2012 ,‭ 01:36 GMT 06:36 PST

صدر بشار الاسد کی حامی افواج نے داریا پر کئی دنوں کی بمباری کے بعد سنیچر کو بڑا حملہ کیا تھا

شام کے صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ اس وقت ان کے ملک کا بحران سارے خطے کے خلاف ایک سازش ہے اور اس کا آغاز شام سے کیا گیا ہے۔

ایران کے ایک وفد سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سازش کو ہر قمیت پر شکست دی جائے گی۔

شام کے صدر کا بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب ملک میں حزب اختلاف نے دمشق کے نواحی قصبے میں حکومتی افواج پر قتل عام کا الزام عائد کیا ہے۔

شام میں حزبِ مخالف کے کارکنوں کے مطابق داریا نامی قصبے میں سے درجنوں افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

حزبِ مخالف کے کارکنوں کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام افراد کو عجلت میں مارا گیا ہے۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق داریا نامی قصبے میں ہلاک کیے جانے والے افراد کی تعداد کم از کم دو سو ہے جن کی لاشیں مختلف مکانات اور زیرِ زمین پناہ گاہوں سے ملی ہیں۔

اب تک اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی ہے تاہم برطانیہ کا کہنا ہے کہ اگر ہلاکتوں کی یہ اطلاعات درست ہیں تو’یہ ایک نئے درجے کی ظالمانہ کارروائی ہے‘

شام کے سرکاری ٹی وی نے ان دعوؤں پر تبصرہ تو نہیں کیا ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ ’داریا کو دہشتگردوں کی باقیات سے پاک کر دیا گیا ہے‘۔

ادھر شام کے نائب صدر فاروق الشرع کئی ہفتوں بعد پہلی بار منظر عام پر آئے ہیں جس کے بعد ان کی صدر بشار الاسد کی حکومت سے منحرف ہونے کی افواہیں دم توڑ گئی ہیں۔ فاروق الشرع کو دمشق میں ایک ایرانی وفد سے ملاقات کے لیے اپنے دفتر کی جانب جاتے دیکھا گیا۔

اطلاعات کے مطابق ایرانی وفد آج ہی صدر بشار الاسد سے بھی ملے گا۔

شامی صدر بشار الاسد کی حامی افواج نے داریا نامی قصبے پر کئی دنوں کی بمباری کے بعد سنیچر کو ایک بڑا حملہ کیا تھا۔ بیروت میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ یہ حملہ دمشق کے ان جنوبی نواحی علاقوں کا کنٹرول دوبارہ سنبھالنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے جہاں باغی دوبارہ جمع ہو رہے ہیں۔

شام میں کام کرنے والے برطانوی انسانی حقوق کے ادارے کا کہنا ہے کہ پچاس شہریوں کی لاشیں ملی ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

شام کے نائب صدر فاروق الشرع کے منحرف ہونے کی افواہیں کئی ہفتوں سے گردش میں تھیں

علاقے میں موجود حزبِ مخالف کے کارکنوں نے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو بھی نشر کی ہے جس میں کئی لاشیں ایک مسجد میں پڑی ہوئی ہیں۔ کارکنوں کے مطابق گھر گھر تلاشی کے دوران زیادہ تر افراد کو سر اور سینے میں گولیاں ماری گئی ہیں۔

داریا میں حزبِ مخالف کے ایک کارکن نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’اسد کی فوج نے داریا میں قتلِ عام کیا ہے۔‘

حزبِ اختلاف کے کارکنوں کے مطابق متعدد افراد کو انتہائی قریب سے گولی ماری گئی اور کئی افراد ماہر نشانہ بازوں کی گولیوں سے ہلاک ہوئے۔

ادھر ایک اور اپوزیشن گروپ سیرئین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ داریا میں گزشتہ پانچ دن کے دوران تین سو بیس افراد مارے گئے ہیں۔

برطانوی دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ حزبِ مخالف کی جانب سے دی گئی اطلاعات کے مطابق ’تین سو افراد جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہوئے ہیں‘۔ دفترِ خارجہ کے اعلیٰ اہلکار الیسٹر برٹ کا کہنا ہے کہ اگر ان ہلاکتوں کی تصدیق ہو جاتی ہے تو ’عالمی برادری کو اس کی شدید مذمت کرنی چاہیے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہے تو یہ سنیچر اسد مخالف تحریک کے آغاز کے بعد سب سے خونی دن تھا کہ اس دن شام بھر میں چار سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔

شام میں حزبِ مخالف کی رابطہ کمیٹیوں کے مطابق سنیچر کو شام میں کل چار سو چالیس افراد مارے گئے تاہم شام میں غیر ملکی میڈیا پر پابندی کے باعث ان اطلاعات کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔

شام میں حکومت مخالف کارکنوں کا کہنا ہے کہ داریا میں جس قسم کے ’قتلِ عام‘ کی اطلاعات ملی ہیں، اس قسم کے واقعات میں حالیہ مہینوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق یہ ایک نیا عمل ہے جو کہ بہت سے علاقوں میں بارہا انجام دیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل سامنے آنے والی اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں شام کی حکومتی افواج اور باغی دونوں کو قتلِ عام کے واقعات کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا تاہم رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ حکومتی افواج اس عمل میں زیادہ ملوث ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔