زعتری کے شامی مہاجرین

آخری وقت اشاعت:  اتوار 26 اگست 2012 ,‭ 16:43 GMT 21:43 PST

یہ وہ بچے ہیں جو شام میں جاری لڑائی سے بچ کر اردن کے اس مہاجر کیمپ میں آئے ہیں۔

یہ ایک مہاجر کیمپ ہے اور یہاں موجود بچوں نے جو کہ ایک بڑے دائرے میں ایک گرم خیمے میں کھڑے ہیں کئی مہینوں سے کوئی کھیل نہیں کھیلا ہے۔

فضا میں ان بچوں کی آواز گونجتی ہے جو کہ عربی میں جانوروں اور کھیتوں کے بارے میں ایک نظم گا رہے ہیں اور ساتھ ساتھ تالیاں بجا کر اچھل کود کر رہے ہیں۔

بظاہر یہ ایک دنیا میں کہیں بھی ہونے والا عام سا کھیل کود کا ماحول لگ رہا ہے مگر ان پر اگر ایک نظر بغور ڈالی جائے تو ان بچوں کے دھول اور تھکان بھرے چہرے کوئی اور ہی داستان سناتے ہیں۔

یہ ایک نرسری ہے جس کی دیواروں پر کوئی تصویر نہیں ہے بلکہ درحقیقت اس کی کوئی دیواریں ہی نہیں ہیں۔

یہ وہ بچے ہیں جو شام میں جاری لڑائی سے بچ کر اردن کے اس مہاجر کیمپ میں آئے ہیں جہاں وہ اس عارضی کیمپ کے حصے میں نئے سرے سے دوست بنا رہے ہیں۔

شام کی سرحد کے پار اردن میں واقع زعتری کیمپ میں چودہ ہزار پانچ سو سے زائد مہاجرین قیام پذیر ہیں۔ اس تعداد میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ سینکڑوں اور بعض کے مطابق ہزاروں لوگ روزانہ شام اور اردن کے درمیان کی سرحد عبور کرتے ہیں۔

علی بی بی جو کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین میں رابطہ افسر ہیں نے بتایا کہ ’ہم نے اس کیمپ کا آغاز پانچ سو مہاجرین کے ساتھ کیا تھا اور اب ہمارے پاس چودہ ہزار پانچ سو سے زائد مہاجرین ہیں۔اوسطاً تین سو سے پانچ سو مہاجرین روزانہ آتے ہیں۔ بعض دنوں میں یہ تعداد کم ہو کر پچاس تک چلی جاتی ہے اور بعض دوسرے دنوں میں یہ تعداد ہزاروں میں چلی جاتی ہے جیسا کہ گزشتہ رات۔ یہ تعداد شام میں سیاسی اور فوجی صورتحال کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے‘۔

"ہم نے اس کیمپ کا آغاز پانچ سو مہاجرین کے ساتھ کیا تھا اور اب ہمارے پاس چودہ ہزار پانچ سو سے زائد مہاجرین ہیں۔ اوسطاً تین سو سے پانچ سو مہاجرین روزانہ آتے ہیں۔ بعض دنوں میں یہ تعداد کم ہو کر پچاس تک چلی جاتی ہے اور بعض دوسرے دنوں میں یہ تعداد ہزاروں میں چلی جاتی ہے جیسا کہ گزشتہ رات۔ یہ تعداد شام میں سیاسی اور فوجی صورتحال کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے جیسا کہ گزشتہ رات ایک ہی رات کے دوران ایک ہی دفعہ دو ہزار دو سو افراد نہ سرحد عبور کر کے آئے۔ "

علی بی بی، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین میں رابطہ افسر

ایک بہت ہی بنیادی اور چھوٹے کھیل کے میدان میں ایک طرف تو بچوں کا ایک ٹولہ دو چھوٹی سبز پھسلنوں کے گرد کھڑا ہے جبکہ دوسرا ٹولہ جھولوں کی طرف لپکتا ہے اور لڑکیاں اپنی ٹولی میں سی سا یا تختے والے جھولے کی طرف دوڑ رہی ہیں۔

مہاجرین کو کیمپ میں سب سے زیادہ تکلیف اڑنے والی دھول سے ہے لیکن دھول اور گرمی ان بچوں کو ہرگز پریشان نہیں کر رہی ہے کیونکہ وہ خوش ہیں کہ بالاخر انہیں باہر نکل کر کھیلنے کا موقع ملا ہے جو انہیں شام میں نہیں ملتا تھا۔

اس کیمپ کے منتظمین اس حصے کو ’بچوں کے لیے موزوں حصہ‘ قرار دیتے ہیں۔ اس حصے میں کچھ خیمے ہیں جہاں بچے ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتے ہیں اور میل جول بڑھاتے ہیں۔ منتظمین اس حصے کو ان بچوں کی بحالی کے لیے بھی استعمال کرنے کا ارداہ رکھتے ہیں جنہوں نے شام میں ہونے والی لڑائی کے دوران بہت تشدد دیکھا ہے۔

سباء ابو بصلہ نے جو بچوں کی تنظیم سیو دی چلڈرن کے ساتھ کام کرتی ہیں کہا کہ ’ہم ایسے پروگرام تشکیل دے رہے ہیں جن سے ان بچوں کی سماجی اور نفسیاتی حالت بہتر ہوگی۔ ہم ان کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ اس سب سے نپٹ سکیں جو وہ شام میں دیکھ کر آئے ہیں اور معمول کی زندگی کی طرف واپس آسکیں‘۔

نبیل غالی جو کہ شام کے شہر حمص سے آئے ہوئے ہیں نے بچوں پر ان کے گزشتہ تجربات کے اثرات کے بارے میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’گولوں کے گرنے کی آواز انہیں بہت ڈراتی ہے۔ میرے بچوں نے بھی بہت سی خوفناک چیزیں دیکھیں ہیں جیسا کہ جسموں کے ٹکڑے، خون، ماہر نشانہ باز اور انہیں بندوقوں کی گولیوں کی آواز سے نفرت ہے۔ وہ خوف تھا، انتہا کا خوف اور انہیں ہر وقت گھر میں ہی مقید رہنا پڑتا تھا اور وہ گھر سے باہر کھیلنے بھی نہیں جا سکتے تھے‘۔

ان میں سے کئی بچوں نے شام سے اردن کی سرحد پار کرنے تک کا ایک تھکا دینے والا اور بعض اوقات خوفناک سفر کیا ہے۔

احمد یاسین اپنے تین چھوٹے بچوں اور بیوی سمیت درعا سے فرار ہوئے۔ سباء ابو بصلہ کے مطابق ’وہ اپنے گھر سے کیمپ تک کے سفر کے بارے میں بتاتے ہیں۔ اس سفر کی تفصیلات تو بہت دھندلی سی ہیں اور ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ حقیقت ہے یا بچوں کی ذہن کا تخیل جو کہ دہشت کی وجہ سے بن گیا ہے۔ ان میں سے بعض کا کہنا ہے کہ وہ صرف تاریکی میں سفر کر سکتے تھے جس کا مطلب ہے کہ وہ پورا دن بغیر پانی اور خوراک کے کسی جگہ پر چھپے رہتے تھے‘۔

"ہم ایسے پروگرام تشکیل دے رہے ہیں جن سے ان بچوں کی سماجی اور نفسیاتی حالت بہتر ہو گی۔ ہم ان کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ اس سب سے نپٹ سکیں جو وہ شام میں دیکھ کر آئے ہیں اور معمول کی زندگی کی طرف واپس آسکیں۔"

سیو دی چلڈرن کی سباء ابو بصلہ

زعتری کیمپ کے اندر خیموں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے اور ان سب پر دھول جمی ہوئی ہے جو ان کی سفیدی کو مدھم کر دیتی ہے۔

یہ خیمے بھی بہت بنیادی قسم کے ہیں جن میں نہ بجلی ہے نہ ہی صفائی ستھرائی کا انتظام اور مہاجرین پانی اور غسل کی نامناسب سہولیات کا شکوہ کرتے ہیں۔ لیکن انہیں سب سے زیادہ شکایت دھول کے بارے میں ہے۔

ابو یزان کیمپ میں قائم فرانسیسی فیلڈ ہسپتال میں واقع اپنے کلینک کی طرف جا رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’میں اس ساری دھول کی وجہ سے سانس نہیں لے سکتا۔ میں سب کچھ برداشت کر سکتا ہوں لیکن یہ دھول ناقابل برداشت ہے‘۔

ڈاکٹر برنارڈ بیپٹیسٹ جو کہ اس کیمپ کے طبی سہولیات کے مرکز کے جنرل کوارڈینیٹر ہیں کا کہنا ہے کہ بہت سارے مسائل کیمپ میں رہنے کے نامساعد حالات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’عمومی طور پر دھول کی وجہ سے سانس کے مسائل زیادہ ہیں‘۔

فرانسیسی ہسپتال اس کیمپ میں موجود دو طبی سہولیات میں سے ایک ہے۔ یہاں ایک مراکشی ہسپتال بھی ہے جہاں مریض جراحت کے عمل کے بعد جاتے ہیں جب انہیں دو دن سے زیادہ ہسپتال میں قیام کی ضرورت ہوتی ہے۔

زیادہ پیچیدہ امراض والے مریضوں کو یا جن کی زندگی کو خطرہ ہو انہیں اردن کی وزارت صحت کے تعاون سے مقامی ہسپتالوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر برنارڈ بیپٹیسٹ کا کہنا ہے کہ وہ ’وبائی امراض سے بھی پریشان ہیں انہیں خسرہ سے بھی محتاط رہنا ہو گا اور ہیضے سے بھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم خسرے سے بچاؤ کی ایک مہم جلد شروع کرنے والے ہیں‘۔

’اگر یہ ان بچوں کی خاطر نا ہوتا تو میں کبھی بھی فرار نا ہوتا‘۔

ایک چھوٹے سے خیمے میں احمد یاسین اپنے تین بچوں کے ساتھ بیٹھے کوئی طریقہ ڈھونڈ رہے تھے جس سے وہ اپنے فون کی بیٹری کو چارج کر کے اپنے والدین کو درعا میں کال کرسکیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر یہ ان بچوں کی خاطر نا ہوتا تو میں کبھی بھی فرار نہ ہوتا کیونکہ یہ گولوں اور گولیوں کی آوازوں سے اتنے دہشت زدہ ہوگئے تھے کہ میں سمجھتا ہوں کے ان میں ایک احساس کمتری کی ذہنی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ جس وجہ سے ہمیں پھر نکلنا پڑا‘۔

’مجھے ہر چیز کو خدا حافظ کہنا پڑا، ہر ایک کو، جسے میں جانتا تھا، میرے والدین، میرے دوست، سب کو۔ اپنے گھر سے اس خیمے میں آنا مشکل تھا اور ہمیں اس سے مانوس ہونے میں کچھ دن لگے۔ لیکن یہ وہاں (درعا) میں رہنے سے بہتر ہے۔ یہ پہلے سے بہتر ہے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔