سویڈن: جیمز بانڈ پارٹی پر نکتہ چینی

آخری وقت اشاعت:  منگل 28 اگست 2012 ,‭ 11:19 GMT 16:19 PST
جیمز بانڈ

فلمی جیمز بانڈ کو خرچ پر کسی قسم کی نکتہ چینی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا

ایجنٹ زیرو زیرو سیون کے بہی کھاتے اس وقت زیرِبحث نہیں آتے جب وہ دنیا کو بچانے کی مہم پر ہوتے ہیں، تاہم سویڈن کے جیمز بانڈز کے نصیب اتنے اچھے نہیں۔

سویڈن کی حکومت کو ملک کی خفیہ ایجنسی ساپو کے لیے دی جانے والی ایک پرتعیش پارٹی کے بارے میں تشویش ہے۔

سویڈن کی ایک خبررساں ویب سائٹ (ڈی این) نے کہا ہے کہ گذشتہ جون ساپو کے ایک ہزار اہلکاروں کے لیے دی جانے والی پارٹی میں کیسینو کی میزیں، گالا ڈنر اور میوزک بینڈ شامل تھے۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ اس پارٹی کا بل تریپن لاکھ کرونر یا آٹھ لاکھ ڈالر آیا تھا۔

ڈی این کے مطابق برطانوی جاسوس ادارے ایم آئی فائیو کے سربراہ جوناتھن ایونز بھی مہمانوں کی فہرست میں شامل تھے۔

پارٹی میں مہمانوں کا دل لبھانے کے لیے مشہور شخصیات اور مزاحیہ فن کاروں کو بلایا گیا تھا۔

اس قسم کے خرچ متنازع ہیں کیونکہ حال ہی میں سویڈن پولیس کی خفیہ ایجنسی ساپو کے ڈھانچے میں تبدیلیاں کی گئی ہیں اور بجٹ میں کٹوتی کی گئی ہے۔

ڈی این کی اطلاع کے مطابق ساپو کے جنرل اینڈرز تھورن برگ نے تسلیم کیا کہ ادارے نے تقریب کے بعد سیلز ٹیکس کے کلیم میں غلطی کی تھی۔ ساپو نے نو لاکھ چوہتر ہزار کے ٹیکس ری فنڈ کا مطالبہ کیا تھا جو اس کی تفویض کردہ حد سے زائد تھا۔

سویڈن کے قوانین کے تحت ساپو کو چاہیے تھا کہ وہ تقریب کے لیے مختلف جگہوں سے بولیاں طلب کرتی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔