صحرائےسینا میں دوبارہ فوج بھیجنے کا اعلان

آخری وقت اشاعت:  بدھ 29 اگست 2012 ,‭ 13:19 GMT 18:19 PST
صحرائے سینا میں سیکورٹی فورسز کی تصویر

صحرائے سینا میں مزید افواج تعینات کی جائے گی

مصر کی وزارتِ دفاع نے صحرائے سینا میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے ایک مرتبہ پھر فوج تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس علاقے میں رواں ماہ کے دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں اب تک گیارہ مسلح شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیل اور غزہ کی پٹی کے ساتھ مصر کے سرحدی علاقے صحرائے سینا میں مبینہ شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی اس وقت شروع ہوئی تھی جب پانچ اگست کو شدت پسندوں نے مصری پولیس کی سرحدی چوکی پر حملہ کر کے سولہ پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔

اس علاقے میں گزشتہ کئی سالوں کے دوران یہ سب سے پرتشدد واقعہ تھا۔ اس واقعے کے بعد تئیس مبینہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے پاس موجود اسلحہ ضبط کر لیا گیا تھا۔

مصر کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ’شدت پسند عناصر کو پکڑنے کے لیے علاقے میں ایک بار پھر سے فوج تعینات کی جائے گی‘۔ مصری حکومت نے علاقے میں موجود اسلامی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے بڑی تعداد میں فوج، ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں بھیجی ہیں۔

علاقے میں مصری فوج کی تعیناتی میں اضافے اور بھاری اسلحہ کی موجودگی سے ایران فکر مند ہے۔

سنہ انیس سو بیاسی میں اسرائیلی فوج کے انخلاء کے بعد انیس سو اناسی میں مصر اور اسرائیل میں ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت صحرائے سینا میں ایک مخصوص سکیورٹی نظام نافذ ہے۔

سینا میں مصری فوج کی تعداد کم ہے ۔ انیس سو اناسی کے معاہدے کے تحت مصر کو اس علاقے میں فوج بھیجنے کے لیے اسرائیل سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ اسرائیل نے سینا کے علاقے پر قبضہ کرنے کے بعد مصر کو واپس کر دیا تھا۔

پیر کو مصر کے صدر محمد مرسی نے کہا تھا کہ انکا ملک ہر عالمی معاہدے کا پابند ہے۔ اسرائیل کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا تھا کہ کسی بھی ملک کو صحرائے سینا میں انکی کارروائی کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا ’مصر اپنی سرزمین پر اپنا بہت ہی نارمل کردار ادا کر رہا ہے اور اس سے کسی کو خطرہ نہیں ہے۔ صحرائے سینا میں مصری فوج کی موجودگی سے کسی عالمی اور علاقائی طاقت کو فکرمند نہیں ہونا چاہیے‘۔

واضح رہے کہ مصری سکیورٹی اہلکاروں کو مارنے کے بعد شدت پسند اسرائیل میں حملے کی نیت سے سرحد پار کر اسرائیل چلے گئے تھے جہاں وہ مبینہ طور پر ایک اسرائیلی فوجی کارروائی میں مارے گئے تھے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ مصر میں گزشتہ سال صدر حسنی مبارک کے اقتدار سے الگ ہونے بعد صحرائے سینا میں سکیورٹی کی صورتحال ابتر ہوئی ہے جس کا اسلامی شدت پسندوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔

اس سے پہلے جمعہ کو صحرائے سینا کے مقامی بدو قبائلی سرداروں نے علاقے میں اسلامی شدت پسندوں کے خلاف حکومتی کارروائیوں کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔