شام:ہوائی اڈوں پر کنٹرول کے لیے لڑائی جاری

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 1 ستمبر 2012 ,‭ 14:24 GMT 19:24 PST

ایئر بیس پر باغیوں کی جانب سے زبردست حملہ ہوا

شام میں حکومتی افواج اور باغیوں کے مابین ملک کی فضائیہ کے متعدد اڈوں پر کنٹرول کے لیے لڑائی جاری ہے جبکہ حکومت نے ملک کے شمالی شہر حلب کے نزدیک ہوائی اڈے پر ایک بڑے حملے کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

شام میں باغیوں نے حالیہ ہفتوں میں ملک کی فضائیہ کو ہدف بنایا ہے اور وہ اسے شہروں پر بمباری اور فائرنگ کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے رسم العبد کے ہوائی اڈے سے ضبط کیے گئے اسلحے، مشین گنوں اور دوسرے آلات سے لیس گاڑیوں کو دکھایا ہے۔

یہ ان ہوائی اڈوں میں سے ایک ہے جن پر گذشتہ دنوں میں حملہ کیا گیا ہے تاکہ حکومت باغیوں کے خلاف اپنی زمینی فوج کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے مدد نہ پہنچا سکے۔

سرکاری ٹی وی نے رسم العبد ایئر فورس کالج سے رپورٹ دکھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس ایئر بیس پر باغیوں کی جانب سے زبردست حملہ ہوا ہے۔

خبررساں ایجنسی اے پی کے مطابق شام کے لیے باغیوں کی حامی ہیومن رائٹس کی تنظیم اور دیکر کارکنوں نے کہا ہے اس حملے میں سرکاری فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

دریں اثنا مزاحمت کاروں نے کہا ہے کہ حلب میں جاری لڑائی میں جمعے کو تقریباً سو افراد مارے گئے ہیں۔

خبروں میں بتایا گیا ہے کہ حلب کے علاوہ شام کے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقوں اور ملک کے ديگر حصوں میں لڑائی جاری ہے۔

بی بی سی کے جم میور نے پڑوسی ملک لبنان سے خبر دی ہے کہ حکومت حلب پر کنٹرول واپس حاصل کرنے کے قریب نظر نہیں آ رہی ہے اور نہ ہی وہ دارالحکومت کے نواحی علاقوں میں باغیوں کو قابو کرنے میں اہل نظر آ رہی ہے۔

اس کے علاوہ مزاحمت کاروں نے ادلب صوبہ کے ابوظہر ہوائی اڈے پر جاری لڑائی کی خبریں بھی دی ہیں۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ دیر الزور نامی مشرقی شہر میں فضائیہ کی ایک عمارت پر قبضے کے دوران شامی فضائیہ کے ایک کمانڈر ہلاک ہوگئے جبکہ سولہ اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

بہرحال دونوں جانب سے کیے جانے والے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو پا رہی کیونکہ ملک میں غیر ملکی صحافیوں کی رپورٹنگ بہت زیادہ محدود ہے۔

روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاورو نے سنیچر کو کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ اور مغربی حکومتوں کی جانب سے شام سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال نہ کرنے کا مطالبہ غیر حقیقی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’آپ کا شامی حکومت کے بارے میں جو بھی نظریہ ہو، موجودہ حالات میں جبکہ شہروں میں لڑائی جاری ہے یہ بالکل غیر حقیقی بات ہے کہ متحارب فریقین میں سے ایک اپنے طور پر باز رہے‘۔

ادھر لخدار براہیمی نے شام کے لیے اقوامِ متحدہ کے امن ایلچی کی حیثیت سے کام شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کوفی عنان کی جگہ لی ہے جو قیامِ امن کی ناکام کوششوں کے بعد مستعفی ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔