چین: کان دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 43 ہوگئی

آخری وقت اشاعت:  اتوار 2 ستمبر 2012 ,‭ 08:24 GMT 13:24 PST

چین میں گزشتہ برس ملک میں کان حادثوں میں ایک ہزار نو سو تہتر افراد ہلاک ہو چکے ہیں

حالیہ سالوں میں چین کی تاریخ کے بدترین کان حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد ترتالیس ہو گئی ہے اور ریاستی میڈیا کے مطابق ابھی بھی تین مزید کان کن زیرِ زمین پھسے ہوئے ہیں۔

بدھ کے روز سیشوان صوبے میں ژیائوژیان کوئلے کی کان میں گیس جمع ہونے سے دھماکہ ہوا جس میں ایک سو پچاس کان کن کام کر رہے تھے۔

حادثے میں زندہ بچ جانے والے مزدوروں میں سے پچاس افراد کاربن مونو آکسائڈ گیس کے مضر اثرات سے گزر رہے ہیں اور سات کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

کان کے مالکان کو تفتیش کے دوران حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ماضی میں بھی چین کی کانوں میں حادثوں کے واقعات ہوتے رہے ہیں جہاں ناقدین غیر معیاری حفاظتی نظام کی شکایت کرتے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف گزشتہ برس میں ہی ملک میں کان حادثوں میں ایک ہزار نو سو تہتر افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

چین کی مرکزی حکومت نے کانوں میں حفاظتی اقدامات کو بہتر بنانے کے لیے قوانین تو متعارف کروائے ہیں تاہم مقامی سطح پر اکثر ان قوانین کو نظر انداز کر دہا جاتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔