بحیرۂ چین تنازع، ہلیری کا دورۂ انڈونیشیا

آخری وقت اشاعت:  پير 3 ستمبر 2012 ,‭ 11:57 GMT 16:57 PST
ہلیری کلنٹن

ہلیری کلنٹن ایشیا کے گیارہ روزہ دورے پر ہیں

امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن انڈونیشیا پہنچنے والی ہیں، جہاں وہ مذاکرات کے دوران جنوبی ایشیائی ممالک کو سرحدی تنازعات کے معاملے پر چین کے خلاف متحد ہونے پر زور دیں گی۔

توقع ہے کہ مذاکرات علاقائی تنظیم آسیان کی طرف سے بحیرۂ جنوبی چین کے تنازع کا سامنا کرنے پر مرکوز رہیں گے۔

گیارہ روزہ دورے کے دوران ہلیری کلنٹن انڈونیشی صدر سوسیلو بامبنگ یودھویونو سے ملاقات کریں گی۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے یہ دورہ جزائر کک سے شروع کیا جہاں انہوں نے بحرالکاہل کے ممالک کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی تھی۔

ان کے طویل دورے کو اس بات کی نشانی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ امریکہ اس خطے میں جارحانہ سفارت کاری میں تیزی لا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کا سامنا کرنے کے لیے صدر براک اوباما کے ’محورِ چین‘ پروگرام کا حصہ ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ چین، مشرقی تیمور اور برونائی کا دورہ کریں گی۔ اس کے بعد وہ روس میں ایپک کے اجلاس میں شریک ہوں گی۔

ہلیری کلنٹن کے جہاز پر موجود ایک عہدے دار نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ ’آسیان ممالک میں اتحاد کا فروغ چاہتا ہے۔‘

بحیرۂ جنوبی چین کے تنازع کی وجہ سے جنوب مشرقی ممالک کی دس رکنی تنظیم آسیان تقسیم کا شکار ہو گئی ہے۔

سمندری حدود کے معاملے پر بحیرۂ جنوبی چین میں آسیان کے چار ارکان کے ساتھ چین کا تنازع چل رہا ہے۔ اس برس کے آغاز پر ایک متنازع جگہ سکیربرو شول میں چین اور فلپائن کے بحری جہاز کئی ہفتوں تک صف آرا رہے تھے۔

انہی تنازعات کی وجہ سے جولائی میں کمبوڈیا میں ایک باقاعدہ اجلاس کے دوران آسیان کے ارکان اپنی پینتالیس سالہ تاریخ میں پہلی بار مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں ناکام رہے تھے۔

"امریکہ کو ثابت کرنا ہو گا کہ وہ ایشیا میں امن کار کی حیثیت سے آ رہا ہے، نہ کہ مسائل میں اضافہ کرنے کی خاطر۔"

چینی خبررسان ادارہ زن ہوا

ویت نام اور فلپائن نے کمبوڈیا پر الزام لگایا تھا کہ اس نے چین کے دباؤ میں آ کر اس معاملے کو ایجنڈا سے نکال دیا تھا۔

اس کے بعد انڈونیشیا کے وزیرِ خارجہ مارٹی نیٹلے گاوا نے کئی علاقائی رہنماؤں سے ملاقاتیں کر کے باہمی تعاون بڑھانے اور مختلف جزائر کے دعوے داروں کی طرف سے مشترکہ ضابطۂ کار نافذ کروانے کی کوشش کی تھی۔

جہاز پر موجود عہدے دار نے حسبِ روایت اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہلیری کلنٹن یہ دیکھنا چاہتی ہیں کہ ’سفارتی کوششوں کو کس طرح تقویت دی جائے۔‘

’سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم ایک ایسا سفارتی عمل شروع کریں جس میں ان تمام معاملات کو متحد آسیان اور چین کے درمیان مضبوط سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے، نہ کہ کسی قسم کا دباؤ ڈال کر۔

پیر کے روز چین کے سرکاری خبررساں ادارے زنہوا نے کہا کہ امریکہ کو ثابت کرنا ہو گا کہ وہ ایشیا میں امن کار کی حیثیت سے آ رہا ہے، نہ کہ مسائل میں اضافہ کرنے کی خاطر۔‘

زنہوا نے اپنے تبصرے میں مزید کہا ’امریکہ کہتا ہے کہ وہ اس جھگڑے میں کسی کی طرف داری نہیں کر رہا، لیکن وہ جزوی طور پر کشیدگی کو ہوا دینے کا ذمے دار ہے کیوں کہ اس نے بظاہر کچھ متعلقہ فریقین کی پشت پناہی کی ہے کہ وہ چین کے خلاف ناجائز علاقائی دعوے کریں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔