مصر میں جنسی ہراس میں اضافہ

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 ستمبر 2012 ,‭ 00:36 GMT 05:36 PST

مصر میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں جنسی ہراس وباء کی حد تک پھیل گیا ہے اور پچھلے تین ماہ میں اس قسم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں بی بی سی کی نامہ نگار بیتھنی بیل نے بتایا ہے کہ زیادہ تر خواتین کے لیے جنسی ہراساں روز مرہ کا معمول ہے اور کئی بار اس قسم کے واقعات پرتشدد کی حد تک جا پہنچتے ہیں۔

پچھلے موسمِ سرما میں ایک مصری خاتون پر ایک گروہ نے حملہ کیا۔ اس حملے کی ویڈیو فوٹیج انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے اس خاتون کو مرد اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے ہیں اور کیسے زمین پر گھسیٹا گیا ہے۔ حملہ آوروں کے شور میں اس خاتون کی چیخ و پکار سنائی نہیں دے رہی ہے۔

اس ویڈیو کو دیکھ کر یہ کہنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون اس خاتون کو ہراساں کر رہا ہے اور کون اس کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

"اعداد و شمار کے مطابق ان خواتین کو جنسی ہراس کا زیادہ نشانہ بنایا گیا ہے جنہوں نے نقاب کیا ہوا تھا اور وہ سر سے پیر تک ڈھکی ہوئی تھیں۔"

دینا فریدہ

یہ واقعہ ایک نہایت سنگین نوعیت کا تھا۔ ایسے واقعات روز تو نہیں ہوتے لیکن سروے کے مطابق مصری خواتین کو کسی نا کسی قسم کے جنسی ہراس کا سامنا روزانہ کرنا پڑتا ہے۔

مروہ (اصل نام نہیں) کو خوف ہے کہ جب بھی وہ بازار جائیں گی تو ان کو چھوا جائے گا یا باتوں کے ذریعے ہراساں کیا جائے گا۔ ’یہ وہ بات ہے جس سے میں خوفزدہ ہوتی ہوں۔ اگر میں جا رہی ہوں اور کوئی مجھے چھیڑے تو مجھے بہت ناگوار گزرتا ہے۔ اسی لیے میں اب بازار جانا پسند نہیں کرتی۔‘

مروہ نے حجاب کیا ہوا ہے اور وہ ڈھیلے ڈھالے اور پوری آستینوں کے کپڑے پہنتی ہیں۔ لیکن مصر میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنی والی تنظیم گرلز آر ریڈ لائن کی سربراہ دینا فرید کا کہنا ہے کہ اس قسم کے کپڑے پہننا اس بات کی گارنٹی نہیں کہ ہراساں نہیں کیا جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ کہ ان خواتین کو بھی ہراساں کیا جاتا ہے جو نقاب پہنتی ہیں۔’کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مصر میں زیادہ تر خواتین نے حجاب کیا ہوتا ہے اور زیادہ تر خواتین کو ہراساں کیا گیا ہوتا ہے۔‘

دینا نے مزید کہا ’اعداد و شمار کے مطابق ان خواتین کو جنسی ہراس کا زیادہ نشانہ بنایا گیا ہے جنہوں نے نقاب کیا ہوا تھا اور وہ سر سے پیر تک ڈھکی ہوئی تھیں۔‘

"اگر لڑکی ٹھیک طرح کے لباس میں ملبوس ہو تو کوئی بھی اسے چھیڑے گا۔ لیکن اگر وہ نہیں ہوتی تو وہ خود لڑکوں کو دعوت دیتی ہے چاہے وہ نقاب ہی میں کیوں نہ ہو۔"

لڑکوں کا موقف

سنہ دو ہزار آٹھ میں ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اسّی فیصد مصری خواتین کو جنسی ہراساں کیا گیا ہے۔

پریشان کن بات یہ ہے کہ ہراساں کرنے والے افراد میں نوجوان بھی شامل ہیں۔

جنسی ہراساں جس جگہ سب سے زیادہ کیا جاتا ہے اس میں قصر النیل پُل ہے۔ بی بی سی کی نامہ نگار اس پُل پر نوجوانوں کے ٹولے سے ملیں۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے ایسے واقعات کے بارے میں سنا جہاں لڑکیوں کو چھوا گیا ہو اور ہراساں کیا گیا ہو تو ان کا جواب تھا کہ ایسے واقعات کی ذمہ وار خود لڑکیاں ہوتی ہیں۔

’اگر لڑکی ٹھیک طرح کے لباس میں ملبوس ہو تو کوئی بھی اسے چھیڑے گا۔ لیکن اگر وہ نہیں ہوتی تو وہ خود لڑکوں کو دعوت دیتی ہے چاہے وہ نقاب ہی میں کیوں نہ ہو۔‘

اس ٹولے میں سے ایک لڑکے نے کہا کہ لڑکوں کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا کیونکہ ایک ڈھیلے ڈھجالے نقاب اور ایک جسم سے چپکے ہوئے نقاب میں بڑا فرق ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔