شام:حلب کے قریب فضائی حملے میں’پچیس ہلاک‘

آخری وقت اشاعت:  پير 3 ستمبر 2012 ,‭ 13:45 GMT 18:45 PST
حلب (فائل فوٹو)

حکومت مخالف کارکنوں نے الباب پر مبینہ فضائی حملے کی ویّیو فوٹیج انٹرنیٹ پر شائع کر دی ہے

شام میں حکومت مخالف باغیوں کا کہنا ہے کہ حلب کے قریب ایک فضائی حملے میں پچیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

حزب مخالف کے مطابق یہ فضائی حملہ حلب کے شمال مشرق میں واقع شہر الباب پر ہوا اور مرنے والوں میں چھ خواتین اور دو بچے شامل ہیں۔ تاہم اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

حزب مخالف کا کہنا ہے کہ الباب پر فضائی حملے میں ایک عمارت تباہ ہوگئی جس سے یہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

حکومت مخالف کارکنوں نے اس واقعہ کی ویڈیو فوٹیج انٹرنیٹ پر شائع کی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار جِم میور کا کہنا ہے کہ الباب باغیوں کے کنٹرول میں ہے اور حالیہ ہفتوں میں حکومتی افواج نے اس کو کئی فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق شام کی حکومت نے باغی افواج کے خلاف جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں سے کارروائی میں اضافہ کیا ہے۔

ادھر پیر کو ہی شام کے دار الحکومت دمشق کے علاقے جرامانہ میں ایک بم دھماکہ بھی ہوا ہے۔ اس واقعہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے لیکن یہ حملہ دمشق کے ایک ایسے علاقے میں کیا گیا ہے جہاں عیسائیوں کی بڑی تعداد رہتی ہے۔ دس روز کے اندر اس علاقے میں ہونے والا دوسرا بم حملہ ہے۔

تشدد کے یہ دونوں واقعات اس ہی روز ہوئے ہیں جب شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے ایک نئے مشترکہ ایلچی نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔

اخضر ابراہیمی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنے مشن کی کامیابی کو تقریباً ناممکن قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں کسی بھی مغالطے کا شکار نہیں ہیں۔

’مجھے معلوم ہے یہ کس قدر مشکل کام ہے۔۔۔ میں یہ نہیں کہ سکتا کہ یہ ناممکن ہے مگر یہ تقریباً ناممکن ہے‘۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ چند ہی لوگوں کا خیال ہے کہ لخدار ابراہیمی اس معاملے میں کچھ زیادہ پیش رفت کر سکیں گے۔

عالمی امدادی تنظیم ریڈ کراس کے سربراہ بھی پیر کو شام کے صدر بشار الاسد سے ملاقات کر رہے ہیں جس میں وہ لڑائی میں زخمی ہونے والوں تک رسائی میں مشکلات پر بارت کریں گے۔

شام کی حکومت کے مخالف کارکنوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ مارچ میں شروع ہونے والی حکومت مخالف تحریک کے آغاز سے اب تک بیس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

باغیوں کی حمایتی انسانی حقوق کی نگراں ایک تنظیم سیریئن اوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا اتوار کو کہنا تھا کہ صرف اگست کے ماہ میں پانچ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

شام میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور یہ ایک مکمل خانہ جنگی کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ چند اندازوں کے مطابق دس لاکھ افراد اپنا گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔