ڈیڑھ کروڑ ڈالر کا کیا ہوا؟

آخری وقت اشاعت:  بدھ 5 ستمبر 2012 ,‭ 01:09 GMT 06:09 PST

یہ رقم تیل کے وسائل سے مالا مال صوبے کے گورنر جیمز ابوری نے رشوت کے طور پر دی تھی۔ ابوری کو لندن میں تیرہ سال قید کی سزا ہوئی ہے

افریقہ کے ملک نائیجیریا کے سنٹرل بینک میں پچھلے پانچ سال سے کہیں ایک بیگ پڑا ہے جس میں پندرہ ملین ڈالر ہیں۔ اور اس بیگ کو ابھی تک کسی نے ہاتھ نہیں لگایا۔

پانچ سال قبل ایک سینتالیس سالہ سرکاری افسر یہ بیگ لے کر سینٹرل بینک گیا اور کہا کہ یہ رقم اس کو رشوت کے طور پر دی گئی ہے۔

لاگوس میں صحافی سلا ادونفو نے بی بی سی نیوز کے ویو پوائنٹ میں سینٹرل بینک میں اس بیگ کی کہانی بیان کی ہے۔

اس بیگ میں جو رقم تھی وہ نائیجیریا کے ایک سو پچاس ملین افراد کے تصور سے بھی بہت زیادہ تھی۔ کون اتنا زیادہ امیر ہے جو اتنی بڑی رقم رشوت کے طور پر دے گا؟ اور کون ہے جو اتنی بڑی رقم کو ٹھکرا دے گا؟

یہ رقم نائیجریا کے ایک پولیس افسر نوہو ریبادو نے سینٹرل بینک کے حوالے کی تھی۔ وہ معاشی اور مالی جرائم کے کمیشن کے سربراہ تھے۔

جب وہ یہ رقم لے کر سنہ 2007 میں سینٹرل بینک گئے تو انہوں نے کہا کہ یہ رقم تیل کے وسائل سے مالا مال صوبے کے گورنر جیمز ابوری نے ان کو رشوت کے طور پر دی ہے۔

رشوت دینے کا مقصد اس صوبے میں بدعنوانی کی تفتیش کو روکنا تھا۔ ظاہر ہے کہ ابوری نے اس الزام کی تردید کی۔

ریبادو نے فیڈرل ہائی کورٹ میں ابوری کے خلاف بدعنوانی کے ایک سو ستّر مقدمات درج کرا دیے۔ ان الزامات میں ایک رشوت دینے کا بھی الزام تھا۔

ابوری نہ صرف اس وقت صوبے کے گورنر تھے بلکہ وہ حکمران جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے بھی ممبر تھے اور اس وقت کے صدر کی صدارتی مہم میں دل کھول کر خرچہ کیا تھا۔ ایسے میں ان کو کون ہاتھ لگاتا؟

ابوری کے خلاف تمام مقدمات خارج کردیے گئے اور وہ مسکراتے ہوئے عدالت سے باہر آئے جہاں سینکڑوں افراد اور سرکاری اہلکار ان کے حق میں نعرے لگاتے کھڑے تھے۔

رقم کے حصول کی جنگ

اب نائیجیریا میں ان پندرہ ملین ڈالر کے حصول کی جنگ شروع ہو گئی ہے۔ نائیجریا کی حکومت اس رقم پر حق جما رہی ہے جبکہ جس صوبے کے ابوری گورنر تھے وہ یہ رقم واپس چاہتی ہے۔

لیکن ریبادو نے یہ تمام ثبوت لندن پولیس کو بھی دیے ہوئے تھے اور لندن پولیس ابوری کی کھوج میں تھی۔

نائیجیریا کی حکومت نے بھرپور کوشش کی کہ لندن میں تفتیش کو روکا جا سکے لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے۔

اسی دوران ریبادو کے بھی حکومت کے ساتھ تعلقات خراب ہو گئےاور ان کو برخواست کردیا گیا۔

یاد رہے کہ وہ پندرہ ملین ڈالر ابھی بھی نائیجیریا کے سینٹرل بینک میں موجود ہیں۔ ابوری وہ رقم لے نہیں سکتے تھے کیونکہ انہوں نے یہ رقم رشوت کے طور پر دینے سے انکار کیا تھا۔

آخر کار لندن پولیس نے ابوری کا کھوج دبئی میں لگایا اور ان کو لندن لے کر آئی اور ان پر فراڈ اور منی لانڈرنگ کے مقدمے چلائے۔ پانچ ماہ قبل ابوری کو تیرہ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

اب نائیجیریا میں ان پندرہ ملین ڈالر کے حصول کی جنگ شروع ہو گئی ہے۔ نائیجریا کی حکومت اس رقم پر حق جما رہی ہے جبکہ جس صوبے کے ابوری گورنر تھے وہ یہ رقم واپس چاہتا ہے۔

ایک گمنام سیاستدان اور سابق صدر کے سابق مشیر نے بھی اس جنگ میں حصہ یہ کہہ کر لے لیا ہے کہ اس وقت کے صدر نے یہ رقم ابوری کو کسی اور مقصد کے لیے دی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔