قذافی کے انٹیلی جنس چیف لیبیا کے حوالے

آخری وقت اشاعت:  بدھ 5 ستمبر 2012 ,‭ 11:39 GMT 16:39 PST
عبداللہ السینوسی

السنسوئی گزشتہ برس کرنل قذافی کے خلاف بغاوت کے بعد ملک سے فرار ہو گئے تھے۔

موریطانیہ کے سرکاری میڈیا کے مطابق موریطانیہ نے لیبیا کے سابق انٹیلی جنس چیف عبداللہ السینوسی کو لیبیائی حکام کے حوالے کر دیا ہے۔

لیبیا کرنل قذافی کے دورِ حکومت میں ہونے والے مبینہ جرائم کے لیے عبداللہ السینوسی پر مقدمہ چلانا چاہتا ہے۔ عبداللہ السینوسی کرنل قذافی کے داہنے ہاتھ تصور کیے جاتے تھے جبکہ وہ فرانس اور جرائم کی بین لاالقوامی عدالت کو بھی مطلوب تھے۔

اس سے قبل موریطانیہ نے کہا تھا کہ حوالگی سے پہلے عبداللہ السینوسی موریطانیہ میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے کے مقدمے کا سامنا کریں۔

عبداللہ السینوسی لیبیا کے سابق حکمران کرنل قدافی کے انتہائی قریبی اور قابلِ اعتماد ساتھی اور رشتے دار بھی تھے۔

عبداللہ السینوسی قدافی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد لیبیا سے فرار ہو گئے تھے۔ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کے مقدمات میں مطلوب ہیں۔

موریطانیہ پہنچنے کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

السینوسی کو لیبیا کے حوالے کرنے کی خبریں موریطانیہ کے سرکاری ٹی وی اور اخبارات میں شائع ہوئی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سرکاری ذرائع نے سابق لیبائی انٹیلی جنس چیف کی حوالگی کی تصدیق کی ہے۔

خبروں کے مطابق عبداللہ السینوسی کو لیبیا کے سرکاری وفد کے حوالے کر دیا گیا ہے اور اب وہ کہاں ہیں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔