پروفائل: محمد عبداللہ السینوسی

آخری وقت اشاعت:  بدھ 5 ستمبر 2012 ,‭ 13:14 GMT 18:14 PST
السینوسی

السینوسی کرنل قذافی کے انٹیلیجنس کے سربرا بھی تھے اور ان کے ہم زلف بھی

محمد عبداللہ السینوسی پر الزام ہے کہ انہوں نے لیبیا کے رہنما معمر قذافی کے خلاف ہونے والی بغاوت کے آغاز میں مظاہرین کے قتل عام کا حکم دیا اور کرائے کی قاتل بھرتی کیے۔

لیبیا کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ عبداللہ السینوسی لیبیا کے معذول و مقتول رہنما معمر قذافی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔

لیبیا میں ایک نمایاں مقام رکھنے والے بریگیڈئر جنرل السینوسی نے لیبیا کی سابقہ خاتون اول کی بہن سے شادی کی جس نسبت سے وہ معمر قذافی کے ہم زلف بنے۔ وہ کئی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے جن میں خارجی سلامتی کے شعبہ کے نائب سربراہ کا عہدہ بھی شامل تھا۔

امریکیسفارتخانے کے منظر عام پر آنے والی خفیہ دستاویزات کے مطابق وہ معر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کے بھی قریبی مشیروں میں شامل تھے۔

عالمی عدالت انصاف نے جون دو ہزار گیارہ میں جنرل السینوسی کی گرفتاری کے وارنٹ لیبیا میں فروری دو ہزار گیارہ میں ہونے والی بغاوت کے آغاز میں کیے گئے انسانیت کے خلاف جرائم پر جاری کیے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی عدالت انصاف نے معمر قذافی اور ان کے بیٹے سیف قذافی کے بھی وارنٹ جاری کیے تھے۔

جنرل السینوسی پر مزید انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بھی الزامات ہیں جن میں انیس سو چھیانوے میں طرابلس کی ابو سلیم جیل میں ایک ہزار افراد کے قتل عام میں ان کی شمولیت کا الزام بھی شامل ہے۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر جیل کی دیواروں پر کھڑے مسلح محافظوں کو حکم دیا تھا کہ قیدیوں پر گولیاں چلائیں۔ یہ واقعہ قیدیوں کے جیل میں بہتر خوراک اور صفائی کے مطالبات پر جیل میں فسادات شروع ہو نے پر ہوا تھا۔

انہیں فرانس نے انیس سو ننانوے میں ان کی غیر موجودگی میں سزا سنائی تھی۔ ان پر فرانسیسی ہواباز کمپنی یو ٹی اے کے جہاز کی انیس سو نواسی میں تباہی میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔

یہ ہوائی جہاز افریقی ملک نیجر کے اوپر پھٹ کر تباہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں ایک سو ستر افراد ہلاک ہوئے تھے۔

لاکربی (فائل فوٹو)

خیال ہے کہ السینوسی سے لاکربی میں امریکی جہاز کے بم سے تباہی کے واقعہ کے بارے میں اہم معلومات مل سکتی ہیں

تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ جنرل السینوسی کو ایسی معلومات تھیں جن کی بنیاد پر امریکی اور برطانوی حکام انیس سو اٹھاسی کے لاکربی جہاز کی تباہی کے مکمل حقائق تک پہنچ سکتے تھے جس میں دو سو ستر افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حال ہی میں ہونے والی تحقیقات نے عبدالباسط المگراہی کے اس جہاز کی تباہی میں سزا کو شبہ میں ڈال دیا ہے۔ المگراہی واحد فرد تھے جنہیں اس جرم میں قانون کے کٹہرے میں لایا گیا تھا۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ جنرل السینوسی نے المگراہی کو بھرتی کیا تھا۔

لیبیا کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ کے بارے میں یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ انہیں کئئ منصوبوں میں لیبیا کے ملوث ہونے کے بارے میں معلومات ہیں۔ ان میں یورپ اور دیگر ممالک میں لیبیا سے تعلق رکھنے والے ان قذافی مخالف افراد کے اغؤا و قتل کے بھی منصوبے تھے اور افریقہ میں دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کرنے کی کارروائیاں بھی۔

سنہ دوہزار تین میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ عبداللہ کو قتل کرنے کے منصوبے سے بھی ان کے تعلق بتایاجاتا تھا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے لیبیا کے جنوبی صحرا میں ایک جوہری پلانٹ کی تعمیر کی نگرانی کی تھی جس کے اتہ پتہ کبھی معلوم نہیں ہو سکاہے۔

امریکی محکمۂ خزانہ کی ممنوعہ افراد کی فہرست میں بھی ان کا نام شامل تھا جس کی بنیاد پر ان کے اثاثے امریکہ کے اندر موجود ہونے کی صورت میں منجمد کیے جا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔