شام: حلب پر بمباری میں’انیس افراد ہلاک‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 5 ستمبر 2012 ,‭ 12:26 GMT 17:26 PST
شام

شام کے شہر حلب میں بمباری

شام کے حکومت مخالف کارکنوں نے کہا ہے کہ سرکاری فوج نے ملک کے دوسرے بڑے شہر حلب پر بمباری کی ہے، جس سے کم از کم انیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

فوج نے بستان القصر، مارجہ اور ہنانو نامی علاقوں پر علی الصباح بم باری شروع کی۔ اطلاعات کے مطابق مرنے والوں میں کئی عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

حکومت مخالف کچھ ذرائع نے بدھ کی صبح ہونے والے اس حملے میں مرنے والوں کی تعداد چون تک بتائی ہے۔

حکومت مخالف کارکنوں کے مطابق بدھ کی صبح حلب کے تیرہ سے زیادہ علاقے بھاری گولہ باری کی زد میں آئے۔

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی ایک شامی تنظیم نے کہا ہے کہ بستان القصر میں دس شہری مارے گئے ہیں جب کہ مارجہ اور ہنانو کے علاقوں میں سے دس لاشیں ملی ہیں جن میں بچوں کی لاشیں بھی شامل ہیں۔

ایک حکومت مخالف نیٹ ورک ایل سی سی نے اطلاع دی ہے کہ مارجہ پر گولہ باری میں کم از کم پندرہ لوگ مارے گئے ہیں جن میں ایک ہی خاندان کے دس افراد بھی شامل ہیں اور اس کے علاوہ جنوبی علاقے باب نیراب میں بھی سات بچے اور تین خواتین کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

ایل سی سی نے بدھ کو ملک بھر میں لڑائی میں مرنے والوں کی تعداد پچھتر بتائی ہے۔ ان میں سے چون افراد حلب میں ہلاک ہوئے۔ تنظیم کے مطابق منگل کے دن ملک بھر میں کم از کم ایک سو پینتیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ادھر بدھ کی صبح دمشق کےعلاقے جوبر میں نو نامعلوم افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ حکومت مخالف کارکنوں نے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو شائع کی ہے، اور کہا ہے کہ ان افراد کو حکومت کی حامی مسلح تنظیم کے ارکان نے ہلاک کیا ہے۔

اس سے ایک ہی روز پہلے شام کے لیے امریکہ کے نئے ایلچی نے اس تنازعے میں اب تک ہونے والی ہلاکتوں کو ’لرزہ خیز‘ اور تباہی کو’قیامت خیز‘ قرار دیا تھا۔

اخضر ابراہیمی نے اقوامِ متحدہ سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ وہ اگلے ہفتے شام کا دورہ کریں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔