دمشق: مسجد کے باہر دھماکے سے پانچ ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 ستمبر 2012 ,‭ 12:24 GMT 17:24 PST

’میرے ذہن میں کوئی شک نہیں رہ گیا کہ شام خانہ جنگی میں مبتلا ہے‘۔ پیٹر موئرر

شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق جمعہ کو دارالحکومت دمشق کے شمال میں واقع ایک مسجد کے باہر ایک بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم پانچ سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ واقعہ رکن دین کے ضلع میں پیش آیا ہے۔

شام میں حکام کے مطابق ایک موٹر سائیکل سوار حملہ آور نے اُس وقت نمازیوں کو نشانہ بنایا جب وہ جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد مسجد سے باہر آ رہے تھے۔

دوسری جانب حزبِ مخالف کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ جمعہ کو ملک میں جاری لڑائی میں کم سے کم پچپن افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

دریں اثناء بین الاقوامی تنظیم ریڈ کراس کے سربراہ پیٹر موئرر کا کہنا ہے کہ ان کی صدر بشار الاسد کے ساتھ بات چیت مثبت رہی ہے۔

پیٹر موئرر نے بتایا کہ انہوں نے صدر کے ساتھ ملاقات میں امدادی کارروائیوں کو در پیش مسائل کے بارے میں بات چیت کی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صدر نے اس معاملے پر غور کرنے کے لیے رضامندی ظاہر کی۔

پیٹر موئرر نے کہا کہ انہوں نے دمشق کے قریب دیہی علاقوں کا بھی دورہ کیا اور مسلح حملوں کی کہانیوں سے وہ دنگ رہ گئے اور اس کے بعد ان کے ذہن میں کوئی شک نہیں رہ گیا کہ شام خانہ جنگی میں مبتلا ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔