شہزادہ ہیری افغانستان میں بطور پائلٹ تعینات

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 ستمبر 2012 ,‭ 11:46 GMT 16:46 PST

شہزادہ ہیری فوج میں ’کیپٹن ویلز‘ کے نام سے معروف ہیں

برطانیہ میں وزارتِ دفاع کے مطابق شہزادہ ہیری کو افغانستان میں فوجی دورے پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ شہزادہ ہیری جنگی ہیلی کاپٹر اپاچی کے پائلٹ ہیں۔

ہیری جمعرات کی شام افغانستان کے شہر ہلمند میں برطانوی فوجی اڈے کیمپ بیسطیوں پر پہنچے ہیں۔

برطانوی شاہی خاندان کے ستائیس سالہ شہزادے طالبان کے خلاف جنگی کارروائی میں حصہ لیں گے۔

یہ ان کی افغانستان میں دوسری تعیناتی ہے۔ اس سے پہلے سنہ دو ہزار سات اور آٹھ میں انہیں دو ہفتوں کے لیے ہلمند میں ہی تعینات کیا گیا تھا تاہم میڈیا میں اس خفیہ تعیناتی کی اطلاعات آنے کے بعد سکیورٹی کے پیشِ نظر انہیں واپس بلا لیا گیا تھا۔

فوج میں ’ کیپٹن ویلز‘ کے نام سے مشہور، شہزادہ ہیری آرمی ایئر کورپس کی ریجمنٹ تھری کے چھ سو باسٹھ سکواڈرن کے سو فوجیوں کے دستے کے ساتھ آئے ہیں۔

مشترکہ ایویئیشن گروپ کے کمانڈر، برطانوی بحریہ کے کیپٹن جوک گورڈن کا کہنا تھا کہ شہزادہ ہیری ایک مشکل کام کے لیے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہیری کو ان کے کام پر توجہ دینے دی جائے۔

شہزادہ ہیری اپنے چچا شہزادہ اینڈرو کے بعد شاہی خاندان کے پہلے رکن ہیں جو کہ کسی جنگ میں لڑنے کے لیے گئے ہیں۔

شہزادہ ہیری اسی سال فروری میں اٹھارہ ماہ کی تربیت کے بعد اپاچی ہیلی کاپٹر کے پائلٹ مقرر ہوئے ہیں۔

برطانیہ کے پاس سڑسٹھ اپاچی ہیلی کاپٹر ہیں اور ان میں آج تک کوئی بھی جنگی کارروائی میں تباہ نہیں ہوا تاہم دو ہیلی کاپٹروں کے معمولی کریش ہوئے ہیں۔

شاہی فوجی روایت

شہزادہ ہیری فالکنڈ جنگوں میں حصہ لینے والے اپنے چچا شہزادہ اینڈرو کے بعد شاہی خاندان کے پہلے رکن ہیں جو کہ کسی جنگ میں لڑنے کے لیے گئے ہیں

افغانستان کے گزشتہ دورے پر شہزادہ ہیری ایئر کنٹرولر تھے اور وہ بم بار جہازوں کو طالبان ٹھاکنوں پر بم باری کے دوران رہنمائی فراہم کرتے تھے۔

میڈیا میں اطلاعات آنے کے بعد مجبوراً واپسی پر شہزادہ ہیری نے مایوسی کا اظہار کیا تھا۔

اس سال اپریل میں انہیں نے کہا تھا کہ ہیلی کاپٹر پائلٹ کی تربیت حاصل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اگر انہیں میدانِ جنگ میں شرکت کا موقع نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر مجھے بھیجا نہیں جائے گا تو میں کسی اور کی جگہ ضائع کر رہا ہوں۔‘

حال ہی میں شہزادہ ہیری لاس ویگاس کے ایک ہوٹل میں متنازع تصاویر کے منظرِ عام پر آنے کے بعد میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔

اس سال انہوں نے اپنی شاہی ذمہ داریوں کے سلسلے میں اولمپک مقابلوں اور ملکہ الزبتھ دوئم کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات میں نمایاں حصہ لیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔