’ایران پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 8 ستمبر 2012 ,‭ 04:39 GMT 09:39 PST

برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے یورپی یونین کے دیگر ممالک سے ایران پر اس کے متنازع جوہری پرواگرام کے حوالے سے سخت نئی پابندیاں عائد کرنے کی استدعا کی ہے۔

جرمنی کے وزیرِ خارجہ گائیڈو ویسٹر ویل کا کہنا ہےکہ ایران نے مزاکرات کے دوران مثبت سوچ نہیں اپنائی اور اس کے خلاف فوری اقدام کی ضرورت ہے۔

جرمن وزیرِ خارجہ کے اس بیان کی فرانس اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے سائپرس میں ہونے والے ملاقات میں حمایت کی ہے۔

سائیپرس میں یورپی یونین کے وزارائے خارجہ کے اجلاس کے بعد جرمنی کے وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنا بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا ’ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونے والے مزاکرات میں مثبت سوچ نہیں اپنائی۔‘

ویسٹر ویل نے خبر رساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا کہ اگر ایران مزاکرات کی میز پر واپس نہیں آتا تو اس صورت میں مزاکرات کا اگلا دور بہت ضروری ہے۔

رائیٹرز کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ یہ مزاکرات اگلے سال نہیں بلکہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران ہوں گے۔

دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے کہا ہے کہ ایران پر مزید دباؤ بڑھانے کے لیے نئی پابندیاں عائد کرنا بہت ضروری ہے۔

امریکہ اور مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کی آڑ میں جوہری ہتھیار بنا رہا ہے تاہم ایران کا ہمیشہ سے اصرار رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

دوسری جانب کینیڈا نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کینیڈا نے گزشتہ روز تحران میں اپنا سفارت خانہ بند کرتے ہوئے تمام ایرانی سفارت کاروں کو پانچ دنوں میں کینیڈا چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

کینیڈا کے وزیرِ خارجہ جان بائرڈ نے ایران کو ایک فہرست فراہم کی ہے جس میں اپنے ملک کے فیصلے کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔

ان وجوہات میں شام کے صدر بشارالاسد کی حکومت کی حمایت اور ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اقوامِ متحدہ اور ایران کے درمیان مزاکرات میں ناکامی بھی شامل ہیں۔

ادھر ایران کے محکمۂ خارجہ نے کینیڈا کے اس فیصلے کو جلد بازی میں کیا گیا فیصلہ قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔