حلب: حکومتی افواج کا فوجی اڈے پر دوبارہ قبضہ

آخری وقت اشاعت:  اتوار 9 ستمبر 2012 ,‭ 23:14 GMT 04:14 PST

اطلاعات کے مطابق حلب میں شدید لڑائی کے بعد حکومتی افواج نے ہنونو فوجی اڈے پر دوباہ اپنا قبضہ جما لیا ہے جس پر باغیوں کا قبضہ تھا۔

حلب اور دمشق کے مضامات میں باغیوں اور سرکاری فوجیوں میں ہونے والی لڑائی میں کم از کم ایک سو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

تیس لاکھ آبادی والے شہر حلب میں باغیوں اور حکومت افواج میں لڑائی کے دوران پانی کی ایک بڑی پائپ لائن پھٹ جانے سے شہر کے کئی علاقوں کو پانی کی سپلائی بند ہو گئی ہے۔

شام کے حکومت مخالف کارکنوں نے کہا ہے کہ شہر میں کئی مقام پر بمباری بھی کی گئی ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ پائپ لائن کیسے پھٹی۔

ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بیس گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں دونوں فریقوں کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔

ادھر شام کے بارے میں اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے نمائندے اخضر ابراہیمی اپنے امن مشن شروع کرنے والے ہیں اور پہلے مرحلے میں مصر میں عرب وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کریں گے۔ اخصر ابراہیمی قاہرہ میں کئی روز تک عرب لیڈروں سے ملاقاتوں کے بعد شام روانہ ہو گئے۔

اخضر ابراہیمی کو کوفی عنان کی طرف سے استعفے کے بعد اقوام متحدہ اور عرب لیگ کا نمائندہ مقرر کیا گیا ہے۔

ادھر روس نے کہا ہے کہ وہ شام میں تشدد کو بند کرانے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کرے گا اور شام کے بارے میں جنیوا منصوبے کی توثیق کرانے کی کوشش کر ے گا۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لوورو نے ولادی واسٹگ میں امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن سے ملاقات کے بعد کہا کہ ان کا ملک شام کے معاملے پر سلامتی کونسل کا ایک خصوصی اجلاس بلانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کوشش کرے گا کہ تمام فریق شام کے بارے میں تیس جون کو پاس کیے جانے والے جنیوا منصوبے کی توثیق کریں۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک شام کے بارے میں کسی نئے منصوبے کے حوالے سے مثبت رویہ رکھتا ہے لیکن بشار الاسد کی جانب سے منصوبے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں سزا کا تعین کیا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔