’ہلاکت کے بعد اسامہ کے چہرے کی تصاویر بنائیں‘

آخری وقت اشاعت:  پير 10 ستمبر 2012 ,‭ 11:17 GMT 16:17 PST
نو ایزی ڈے

یہ کتاب امریکہ میں بیسٹ سیلر بن گئی ہے

اس سابق امریکی نیوی سیل کمانڈو کا پہلا انٹرویو نشر کیا گیا ہے جس نے مئی دو ہزار گیارہ کے اس حملے کے آنکھوں دیکھا حال لکھا تھا جس کے دوران اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا تھا۔

اس نیوی سیل کا قلمی نام مارک اوون ہے اور اس کا انٹرویو امریکی ٹیلی ویژن چینل سی بی ایس نے نشر کیا ہے۔

سرکاری دعووں کے برعکس ’اوون‘ نے بار بار کہا کہ بن لادن نے جونہی اپنے کمرے سے جھانک کر دیکھا، اسے گولی مار دی گئی۔

پینٹاگان نے کہا ہے کہ وہ فوجی راز افشا کرنے پر ’اوون‘ کے خلاف مقدمہ چلائے گی۔

مارک اوون اس شخص کا قلمی نام ہے البتہ اس کو امریکی میڈیا نے میٹ بسونیٹ کے نام سے شناخت کیا ہے۔

انٹرویو میں مارک اوون نے بن لادن کی ہلاکت کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے سی بی ایس کے پروگرام ’60 منٹس‘ کو بتایا:

’اگر کوئی شخص اپنا سر کونے سے باہر نکالتا ہے تو بہت ممکن ہے کہ اس کے پاس پستول بھی ہو۔

’آپ کسی کی طرف سے کلاشنکوف نکالنے، ہینڈ گرینیڈ پھینکنے یا خودکش جیکٹ کا دھماکا کرنے کا انتظار تو نہیں کر سکتے۔‘

انہوں نے کہا کہ بن لادن ایک گولی کھانے کے بعد بھی حرکت کر رہے تھے، اور کمانڈوز نے کمرے میں داخل ہونے کے بعد انہیں دوبارہ گولی ماری۔

انہوں نے بتایا کہ ’(سیلز) اس کے ہاتھ نہیں دیکھ سکتے تھے۔ اس لیے وہ (بن لادن) کچھ بھی کر سکتے تھے۔ ان کے ہاتھ میں گرینیڈ ہو سکتا تھا یا چھاتی پر کچھ بندھا ہو سکتا تھا۔‘

"اس انٹرویو میں امریکی خصوصی دستے (سپیشل فورسز) کے اس سابق نیوی سیل نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے ہلاکت کے بعد اسامہ بن لادن کے چہرے کی تصاویر بھی اتاری تھیں۔ انہوں نے بتایا کے ان کے ایک ساتھی کی بوتل سے پانی لے کر چادر پر لگا کر اسامہ بن لادن کے چہرے کو صاف کیا گیا اور پھر فوٹو لی گئیں "

مارک اوون

امریکی حکام نے کہا تھا کہ بن لادن کو اس وقت گولیاں ماری گئی تھیں جب وہ واپس بیڈ روم میں گئے تھے جس کی وجہ سے خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ شاید وہ ہتھیار لینے جا رہے ہیں۔

اوون نے انٹرویو میں اس آپریشن کے بعد امریکی صدر اوباما سے ہونے والی ایک ملاقات کا بھی ذکر کیا جس میں سیلز نے صدر کو بتانے سے انکار کر دیا تھا کہ ان میں سے کس نے اسامہ بن لادن پر گولی چلائی تھی۔

انہوں نے کہا ’لبلبی دبانا آسان ہے ۔۔۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ (گولی چلانے والا) کون تھا۔ یہ سب کچھ ٹیم کی وجہ سے ہوا، یہ ٹیم کے بارے میں ہے جس سے اس تمام معاملے کو ممکن بنایا تھا۔‘

اس انٹرویو میں امریکی خصوصی دستے (سپیشل فورسز) کے اس سابق نیوی سیل نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے ہلاکت کے بعد اسامہ بن لادن کے چہرے کی تصاویر بھی اتاری تھیں۔ انہوں نے بتایا کے ان کے ایک ساتھی کی بوتل سے پانی لے کر چادر پر لگا کر اسامہ بن لادن کے چہرے کو صاف کیا گیا اور پھر فوٹو لی گئیں۔

انٹرویو کرنے والے صحافی نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ بیان کر سکتے ہیں کہ ان تصاویر میں کیا نظر آرہا تھا تو سابق فوجی کمانڈو نے جواب دیا کہ وہ خاصی خوفناک تصاویر تھیں کیونکہ اسامہ کے سر میں گولی ماری گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تصاویر لینے سے پہلے انہیں یہ احساس تھا کہ شاید یہ ہی ’سب سے اہم فوٹو ہوں جو ان کو زندگی میں لینے کا موقع ملے۔‘

’نو ایزی ڈے‘ یعنی ’کوئی آسان دن نہیں‘ کے عنوان کی اس کتاب کی اشاعات سے پہلے پینٹاگون، سی آئی اے او وائٹ ہاؤس نے اس کتاب کا جائزہ نہیں لیا تھا۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر کتاب میں خفیہ معلومات کو غیر مناسب طریقے سے افشا کیا گیا تو مصنف کے خلاف مجرمانہ کارروائی کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔

پینٹاگون کے وکیل جے جانسن نے مصنف کو ایک خط میں لکھا ہے کہ ’وزارتِ دفاع کی نظر میں آپ نے جس معاہدے پر دستخط کیے تھے آپ اس کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔‘

خط میں کہا گیا ہے کہ پینٹاگون تمام ممکنہ قانونی اقدامات پر غور کر رہا ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔