یمن: القاعدہ کے رہنما الشہری ہلاک

آخری وقت اشاعت:  پير 10 ستمبر 2012 ,‭ 18:29 GMT 23:29 PST
سید الشہری

سید الشہری جزیرہ نمائے عرب میں القاعدہ کے نائب سربراہ تھے۔

یمن میں سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب میں القاعدہ کے نائب سربراہ سید الشہری ایک فوجی کارروائی کے دوران ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس حملے میں الشہری کے چھ ساتھی بھی مارے گئے۔

بعض رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ یمن کی سرکاری فوج نے کیا جب کہ دوسری اطلاعات کے مطابق یہ ہوائی حملہ تھا، جو ممکنہ طور پر امریکہ کا ڈرون حملہ ہو سکتا ہے۔

الشہری سعودی عرب کے باشندے تھے اور انہیں گوانتانامو بے سے دو ہزار سات میں رہا گیا تھا۔

یمن نے پہلے بھی اعلان کیا تھا کہ الشہری مارے گئے ہیں لیکن ان کی موت کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔

یمن کے وزیرِ خارجہ کی ویب سائٹ پر کہا گیا ہے کہ الشہری چھ عسکریت پسندوں کے ہمراہ ایک فوجی کارروائی میں ہلاک کیے گئے، لیکن اس واقعے کی زیادہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

جزیرہ نما عرب میں القاعدہ

  • جنوری دو ہزار نو میں سعودی اور یمنی القاعدہ کے انضمام سے وجود میں آئی

  • بنیادی طور پر مشرقی یمن میں قائم

  • اس کے سربراہ اسامہ بن لادن کے سابقہ یمنی معاون ناصر الوہیشی تھے

  • اس کے نائب سربراہ سابقہ سعودی گوانتانامو بے کے قیدی سید الشہری

  • ان کا مقصد سعودی باشاہت اور یمنی حکومت کو گرا کر اس کی جگہ اسلامی خلافت کا قیام ہے

  • ریاض میں دو ہزار تین کے دھماکوں اور صنعاء میں امریکی سفارت خانے پر دو ہزار آٹھ کے حملے سے یہ تنظیم منظر عام پر آئی

  • اس کا دعویٰ ہے کہ دو ہزار نو میں امریکی مسافر طیارے کو تباہ کرنے کی سازش میں اس کا ہاتھ تھا

یمن میں سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ہلاکت وادی عین کے علاقے میں ایک ہوائی حملے کے نتیجے میں ہوئی۔

تاہم فوجی ذرائع نے کہا ہے کہ ان کے پاس اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ انہوں نے اس ہلاکت کی تصدیق کرنے سے انکار کیا ہے۔

تاہم دوسرے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ موت ہوائی حملے میں ہوئی۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ الشہری کی ہلاکت کی رپورٹ آئی ہو لیکن اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ القاعدہ کے خلاف جنگ میں امریکہ حمایت یافتہ یمنی حکومت کی اہم کامیابی ہو گی۔

وکی لیکس پر افشا ہونے والی امریکی سفارتی ڈاک میں انکشاف کیا گیا تھا یمن نے خفیہ طور پر امریکہ کو اجازت دی تھی کہ وہ القاعدہ کے مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف ہوائی حملے کر سکتا ہے۔

اس وقت کے صدر علی عبداللہ الصالح نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ حملے یمن کی فوج کر رہی ہے جب کہ وکی لیکس کے مطابق درحقیقت یہ امریکہ کی جانب سے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔