لیبیا: سیف الاسلام کےمقدمے کی سماعت موخر

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 ستمبر 2012 ,‭ 10:55 GMT 15:55 PST

جرائم کی عالمی عدالت نے سیف الاسلام کے خلاف وارنٹ جاری کر رکھے ہیں

لیبیا میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے سابق رہنما کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کے مقدمے کی سماعت کو موخر کر دیا گيا۔

اٹارنی جنرل کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گيا ہے کہ معمر قذافی کے دور میں ملک کے انٹیلیجنس سروسز کے سربراہ عبداللہ السینیوسی کی حوالگی کے پس منظر میں سماعت کو موخر کیا گيا۔

السینیوسی کو پانچ ستمبر کو موریطانیہ کی جانب سے لیبیا کے حوالے کیا گيا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ ان سے پوچھ گچھ سے سیف الاسلام کے متعلق مزید تفصیلات مل سکتی ہیں جو مقدمے کے دوران بطور ثبوت استعمال ہو سکتی ہیں۔

جرائم کی عالمی عدالت نے سیف الاسلام کے خلاف وارنٹ جاری کر رکھے ہیں تاہم لیبیا کے حکام نے انہیں ہیگ منتقل کرنے سے منع کر دیا تھا۔

دوسری جانب سیف الاسلام کا کہنا ہے کہ لیبیا میں ان پر مقدمہ چلنے کا مطلب ان کی موت ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کا مقدمہ عالمی عدالت میں چلایا جائے۔

واضح رہے کہ صرف سیف الاسلام کے مقدمے کی سماعت موخر کی گئی ہے تاہم قذافی دور کے دیگر افسران کے خلاف مقدمے کی سماعت جاری رہی گی۔

پیر کو لیبیا کے سابق وزیر برائے خارجہ اور پارلیمان کے صدر عدالت میں پیش ہوئے تھے ان دونوں پر مالی بدعنوانیوں کا الزام ہے۔

سیف الاسلام کو گزشتہ نومبر میں زنتان نامی شہر میں باغیوں نے حراست میں لے لیا تھا اور وہاں کی عدالت میں ان پر مقدمہ دائر کیا گيا۔

زنتان دارالحکومت طرابلس سے ایک سو ستر کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔