یمن کے وزیرِ دفاع قاتلانہ حملے میں محفوظ

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 ستمبر 2012 ,‭ 14:14 GMT 19:14 PST

گزشتہ سال دسمبر میں ملک میں قائم ہونے والی نئی حکومت کے بعد وزیرِ دفاع میجر جنرل محمد ناصر پر یہ چوتھا قاتلانہ حملہ ہے

یمن کے وزیر دفاع ایک قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے تاہم ان کے سات محافظوں سمیت گیارہ افراد ہلاک ہو گئے۔

یمن کے دارالحکومت صنعاء کے مرکزی علاقے میں سرکاری دفاتر کے قریب وزیر دفاع میجر جنرل محمد ناصر احمد کے قافلے پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔

خیال رہے کہ یمنی وزیر دفاع پر حملہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب ایک دن پہلے ہی یمن میں القاعدہ کے نائب سربراہ ایک حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

سکیورٹی ذرائع نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ جیسے ہی وزیرِ دفاع کا قافلہ سرکاری دفتر کے قریب پہنچا تو وہاں کھڑی ایک گاڑی میں دھماکہ ہو گیا۔

ذرائع کے مطابق دھماکے میں وزیر کے قافلے میں شامل سکیورٹی اہلکاروں کی ایک کار مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور اس میں سوار تمام افراد ہلاک ہو گئے تاہم

میجر جنرل محمد ناصر بکتر بند گاڑی میں سفر کرنے کی وجہ سے محفوظ رہے۔

یمن میں حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں ملک میں قائم ہونے والی نئی حکومت کے بعد وزیرِ دفاع میجر جنرل محمد ناصر پر یہ چوتھا قاتلانہ حملہ ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی نے بھی قبول نہیں کی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔