’اوباما نے نیتن یاہو سے ملنے سے انکار نہیں کیا‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 ستمبر 2012 ,‭ 14:04 GMT 19:04 PST

وزیرِاعظم نیتن یاہو نے سنہ دو ہزار سے اب تک ایک کو چھوڑ کر باقی تمام امریکی دوروں میں صدر اوباما سے ملاقاتیں کی ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے اس بات کی تردید کی ہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے اس ماہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو سے ایران کے مسئلے پر ملنے سے انکار کر دیا تھا۔

نیتن یاہو کے عملے نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اس ملاقات کی درخواست کی تھی، لیکن امریکی حکام نے بتایا کہ صدر اوباما کی مصروفیات اس کی اجازت نہیں دیتیں۔

نیتن یاہو نے سنہ دو ہزار نو سے اب تک ایک کو چھوڑ کر باقی تمام امریکی دوروں میں صدر اوباما سے ملاقاتیں کی ہیں۔

اس سے قبل نیتن یاہو نے امریکہ پر تنقید کی کہ وہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر مناسب سختی نہیں دکھا رہا۔

مغربی ملک ایران پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے۔ ایران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ صدر اوباما اور وزیرِاعظم نیتن یاہو’متواتر رابطے‘ میں ہیں، اور اسرائیلی رہنما صدر اوباما کی بجائے وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن سے ملاقات کریں گے۔

صدر اوباما، جو اس وقت انتخابی مہم چلا رہے ہیں، پچیس دسمبر کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ وزیرِاعظم نیتن یاہو اٹھائیس کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹومی وائٹر نے کہا ’وہ دونوں ایک ساتھ شہر میں موجود ہی نہیں ہوں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’اخباروں میں آنے والی خبروں کے برعکس صدر اوباما اور وزیرِاعظم نیتن یاہو کے درمیان واشنگٹن میں ملاقات کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی، اور نہ ہی ایسی کوئی درخواست مسترد کی گئی ہے۔‘

"دنیا اسرائیل سے کہتی ہے: ابھی انتظار کرو، ابھی وقت ہے۔ اور میں کہتا ہوں: کس بات کا انتظار؟ کب تک انتظار؟"

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو

ترجمان نے کہا کہ صدر اوباما کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقعے پر کسی رہنما سے دوطرفہ ملاقات طے نہیں ہے۔

وائٹ ہاؤس نے اس سے قبل منگل کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ صدر اوباما نے وزیرِاعظم نیتن یاہو سے ایک گھنٹے تک فون پر بات کی ہے۔

بیان میں مزید بتایا گیا تھا ’دونوں رہنماؤں نے ایران کی طرف سے لاحق ممکنہ ایٹمی خطرے اور دوسرے سیکیورٹی معاملات پر بات چیت کی۔‘

’صدر اوباما اور وزیرِاعظم نیتن یاہو نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے باز رکھنے کے عزم میں متحد ہیں، اور انہوں نے باہمی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔‘

یہ بیان اس وقت آیا تھا جب وزیرِاعظم نیتن یاہو نے دوسرے ممالک کی یہ کہہ کر مذمت کی تھی کہ وہ ایران پر ’سرخ لکیریں‘ کھینچنے میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے منگل کے روز یروشلم میں بلغاریہ کے وزیرِاعظم بویکیو بوریسوف کے ساتھ ایک اخباری کانفرنس کے دوران کہا: ’دنیا اسرائیل سے کہتی ہے: ابھی انتظار کرو، ابھی وقت ہے۔ اور میں کہتا ہوں: کس بات کا انتظار؟ کب تک انتظار؟‘

انہوں نے مزید کہا: ’بین الاقوامی برادری والے جو ایران پر سرخ لکیریں کھینچنے سے انکاری ہیں، انہیں اسرائیل کے آگے بھی سرخ بتی رکھنے کا کوئی اخلاق حق حاصل نہیں ہے۔‘

اسرائیلی وزیرِاعظم نے کہا کہ ’ایران عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔‘ وزیرِاعظم نیتن یاہو کے بیانات کی سختی میں اضافے سے دونوں ممالک کے درمیان تصادم کے امکان کے بارے میں افواہوں کو ہوا ملی ہے۔

اسرائیل کے اخبار ہارٹز نے اپنی ویب سائٹ پر وزیرِاعظم کے بیانات کو ’امریکہ پر غیرمعمولی زبانی حملہ‘ قرار دیا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ حتمی مہلتیں (ڈیڈلائنز) دینے کا الٹا نقصان ہوتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ سفارت کاری اور تجارتی پابندیوں کو اثرانداز ہونے کا وقت دیا جائے۔ حکام کہتے ہیں کہ وہ اسرائیل کی طرف سے کسی بھی یک طرفہ فوجی کارروائی کے خلاف ہیں۔

ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام غیرفوجی ہے اور اس کا مقصد توانائی اور طبی ضروریات پوری کرنا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔